خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 362

۳۶۲ 68 ایک خطبہ کی تشریح (فرموده ۲۲ ستمبر ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔میں بسبب اس کے کہ مجھے متعدد لوگوں کے ذریعہ یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پچھلے جمعہ پر جو خطبہ پڑھا گیا۔اس سے بعض کو بعض غلط فہمیاں ہوئی ہیں۔اس لئے آج کے خطبہ میں اسی کے متعلق بعض باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔میرے نزدیک بعض لوگوں کو اس خطبہ کے سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔متعدد قسم کی روائتیں میرے تک پہنچی ہیں۔مگر بوجہ اس کے کہ ان کا مضمون اپنی ذات میں ہی یہ بتانے کے لئے کافی تھا کہ غلط فہمی ہو گئی ہے۔آگے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ خطیب سے پوچھوں کہ خطبہ کا کیا مفہوم تھا۔کیونکہ ذرا سا غور کرنے سے بات حل ہو جاتی ہے۔بعض نے اس خطبہ کا مفہوم یہ سمجھا ہے کہ خطیب نے لوگوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ باہر جو مبلغ بھیجے جاتے ہیں۔ان کے بھیجنے میں بعض نقص ہیں۔لوگوں کو چاہیے کہ اس معالمہ کو خلیفہ تک پہنچائیں۔مگر میرے نزدیک یہ مفہوم درست نہیں۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ اس خطبہ سے یہ سمجھنے کی گنجائش نہیں ہوگی۔بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ بعض دفعہ ایک بات بیان کی جاتی ہے اور اس سے ذہن اس طرف منتقل ہو جاتا ہے جس طرف منتقل کرانا بات کرنے والے کا منشا نہیں ہوتا۔پھر میں یہ اس لئے کہتا ہوں کہ خطیب کا وہ منشا نہیں ہو سکتا جو سمجھا گیا ہے کہ قادیان کے رہنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ مبلغوں کے متعلق جس قسم کی کوئی خبر ہو۔وہ پہلے مجھ تک پہنچتی ہے۔اور پھر کسی اور کو ہوتی ہے۔باہر کے لوگوں میں سے بعض غلطی سے سمجھتے ہیں کہ میری ڈاک پہلے اوروں کے پاس جاتی ہے۔اور پھر وہ مجھے خطوط سناتے ہیں۔حالانکہ اس کے متعلق میں نے اتنی احتیاط رکھی ہوئی ہے کہ پہلے سارے خطوط میرے پاس آتے ہیں اور پھر دفتر میں جاتے ہیں۔اور اس طرح مجھے دو گنا کام کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ دفتر والے پھر وہی خطوط مجھے سنا کر ان کے جواب پوچھتے ہیں۔اگر وہ پہلے ہی پڑھ کر