خطبات محمود (جلد 7) — Page 326
جائے گا۔اور ان کی دستک وارنٹ کے پیادہ کی طرح سخت ہوتی ہے۔حالانکہ تصنیف کے کام میں جتنی توجہ اور یکسوئی کی ضرورت ہوتی ہے وہ ظاہر ہے۔بڑی محنت کے بعد ایک بات ذہن میں قائم کی جاتی ہے جو یک دم دماغ سے ان دستکوں کی وجہ سے نکل جاتی ہے اور دروازہ کھول کر دیکھا جاتا ہے تو ایک رقعہ ملتا ہے کہ میرے لئے دعا کرو۔یہ کوئی اہم بات نہیں تھی۔کیونکہ یہ رقعہ ظہر یا عصر کے وقت بھی دیا جا سکتا تھا۔بعض دفعہ کام کی وجہ سے دروازہ نہیں کھولا جاتا۔تو آدھ آدھ گھنٹے تک دستک دیتے رہتے ہیں۔اس وقت اس دستک کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہے۔کیونکہ اگر وہ شخص سمجھتا ہے کہ میں اندر نہیں ہوں۔تو پھر اتنی دیر تک دستک دینے کے کیا معنی؟ اور اگر وہ سمجھتا ہے کہ میں ہوں اور کسی وجہ سے نہیں بولتا تو پھر اتنی دیر تک دستک دینے سے کیا فائدہ؟ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی بچہ ہوتا ہے جو تماشے کے طور پر کھٹکھٹا رہا ہوتا ہے۔حالانکہ قاعدہ یہ ہے کہ دستک کے ساتھ آواز دے اور السلام علیکم کہے اور بتائے کہ میں فلاں ہوں۔اور اس آواز سے وہ شناخت ہو جاتا ہے اور پتہ لگ جاتا ہے کہ فلاں شخص ہے جس کو ہم نے بلایا تھا یا جس سے ملنا ضروری ہے۔تین دفعہ ایسا کرے اگر جواب نہ ملے تو واپس چلا جائے۔اور یہ ہر ایک مسلمان کے لئے حکم ہے۔رسول اور اس کے خلفاء کے لئے جو ایسا نہ کرے وہ لا یعقل ہوتا ہے۔اس غلطی میں افسروں کا بھی دخل ہے دفتروں کے چپراسی جب آتے ہیں تو وہ اسی طرح دستک دیتے ہیں۔ان کو چاہیے کہ وہ چپراسیوں کو سمجھائیں کہ وہ جب آئیں تو دستک دیگر السلام علیکم کہیں۔اور ان کو بھیجیں بھی اس وقت جس وقت کوئی نہایت ضروری کام ہو۔اب جو چپراسی آتے ہیں دستک دئے جاتے ہیں اگر ان سے پوچھا جائے کہ کون ہے۔تو خاموش رہتے ہیں۔چاہیے کہ اگر ضروری کاغذ ہو تو اس وقت بھیجا جائے اور لانے والا بتائے کہ فلاں کام ہے۔چونکہ تصنیف کا کام اتنا اہم ہوتا ہے کہ اس میں پوری توجہ کی ضرورت ہے اور سانس بھی دبانا پڑتا ہے۔عام طور پر ایک منٹ میں ایک شخص اٹھارہ سانس لیتا ہے مگر میرے قریباً نصف رہ گئے ہیں یعنی دس یا گیارہ سانس۔اس وقت یہ حالت ہوتی ہے کہ سانس لینا بھی برا معلوم ہوتا ہے اس لئے یہ کام پورے انہماک اور توجہ کو چاہتا ہے لیکن یہاں دس منٹ بھی توجہ سے بیٹھنے نہیں دیا جاتا۔اور دیکھا گیا ہے کہ نوے فیصدی جو لوگ دستک دیتے ہیں وہ فضول ہوتی ہے۔اور دعا کے رقعہ دینے والے بھی معمولی رقعے دیتے ہیں۔اگر کوئی خاص تکلیف ہو اور اس وقت ملنا ضروری ہو تو کوئی حرج نہیں۔بلکہ مخلوق کی ہمدردی کے لئے ایسا کرنا ثواب کا باعث ہے اسی طرح اگر اہم کام ہو تو افسر آئیں۔اگر ان کا آنا ضروری ہو۔ان پر کوئی اعتراض نہیں۔کیونکہ اسی سورہ میں ان کے لئے اجازت ہے۔کہ اکثر لا یعقل ہوتے ہیں۔یعنی جن کو ضرورت کے لئے ایسا کرنا پڑتا ہے ان پر کوئی