خطبات محمود (جلد 7) — Page 294
۲۹۴ ان کی یہ حالت ہوتی ہے واذا الموردة مسئلت (التکویر) گویا کہ وہ علم کو زندہ ہی دفن کر دیتے ہیں اور لوگ علمی ترقی کے لئے کوشش کرتے ہیں۔یہ کوشش نہیں کرتے۔یہاں علمی ترقی کے لئے مختلف سوسائٹیاں ہونی چاہئیں۔جن میں سب مل کر بیٹھیں اور علمی ترقی کی کوشش کریں۔ان میں انگریزی، عربی، اردو میں تقریریں ہوں۔ملنے جلنے سے علمی ترقی ہو اور کوئی مفید کام ہو۔مگر اس کے نہ ہونے سے ایک مردنی سی چھائی رہتی ہے۔اور ابھی تک بچوں کی سی حالت ہے کہ نگرانی کے ماتحت کام کریں۔اور ان کو کھڑا کیا جائے تو کھڑے ہوں۔ان کے ہر ایک کام میں راہنمائی کی ضرورت ہے پس اس حالت کی اصلاح کے لئے میرا خیال ہے کہ ایک سوسائٹی ہو جس میں کچھ عرصہ تک میں بھی بیٹھا کروں تو امید ہے کہ انشاء اللہ چل سکے گی۔اس کے باقاعدہ اجلاس ہوں اور اس میں سب لوگ حصہ لیں جس طرح کہ مجلس ارشاد ہوتی ہے۔یا تشمیذ الاذہان کی مجلس تھی کہ اس میں لیکچروں کی مشق ہوتی تھی۔چونکہ یہاں لوگ دین کے اور کاموں میں لگے رہتے ہیں۔اور زیادہ وقت اس کے لئے نکالنا مشکل ہے اس لئے پندرہ روزہ اس کے اجلاس ہوا کریں اور جمعہ ہی کے دن اس کا اجلاس ہو جایا کرے ابھی تجربہ کے طور پر بہت سی مجالس کی بجائے صرف ایک ہی مجلس ہو اور اس میں انگریزی اور اردو وغیرہ زبانوں میں تقریریں ہوا کریں۔اور بڑے چھوٹے سب حصہ لیں۔اور بجائے زیادہ پابندیاں عائد کرنے کے یونہی ہوا کرے جس کو انگریزی میں Informal کہتے ہیں اس میں ہر زبان میں لیکچر ہو جایا کریں۔اور ہر قسم کے مضامین ہوا کریں۔پھر یہ بہتر صورت اختیار کرلے گی۔پہلے سے میں نے اس لئے کہدیا ہے کہ لوگ تیار ہو جائیں۔اگلے جمعہ کو نماز کے بعد اس کا انشاء اللہ پہلا اجلاس ہو گا۔جن لوگوں کی تقریریں مقرر ہوں گی وہ تیار ہو جائیں اور یکدم کہنے سے گھبرا نہ جائیں۔میں امید کرتا ہوں کہ یہ طریق انشاء اللہ مفید ہو گا۔اور اس سے ایک سوسائٹی مستحکم ہو جائے گی جس سے لوگ تقریر کے فن کے واقف پیدا ہو جائیں گے۔تیسری بات یہ ہے کہ آج نئی کتاب جو میں نے لکھی ہے اس کا مسودہ سنانا شروع کروں گا۔اندازہ ہے کہ ایک اجلاس میں نہیں سنایا جا سکے گا۔بلکہ سات آٹھ گھنٹے لگیں گے۔کیونکہ میرے گلے میں تکلیف ہے اس لئے دو دن میں سنا دیا جائے گا کچھ آج کچھ کل۔جن احباب سے مشورہ لیا جائے گا ان کو اطلاع دے دی جائے گی۔وہ ضرور آجائیں۔باقی لوگ بھی سن سکتے ہیں۔میں مسودہ اس لئے سنا دیا کرتا ہوں کہ بہت سے لوگوں کو موقع نہیں ملتا وہ اس طرح سن لیتے ہیں۔اور سنا ہوا کچھ نہ کچھ بعد میں یاد رہ جاتا ہے۔خطبہ کو ختم کرنے سے پہلے پھر اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگ اپنے فرائض کو سمجھیں اور غفلت اور سستی میں وقت نہ گزاریں۔اور فرائض کی اہمیت کو سمجھیں۔اور اپنی زندگی کے