خطبات محمود (جلد 7) — Page 24
۲۴ اس آب الولاك راج او ياحري؟ سامات میلان 6 این چنین زمانہ چنین دور این چنین برکات دی جاتی ہے۔نصیب روی وه چه این شقا باشد شقان ایرانی فرموده ۲۵ / فروری (۶۱۹۳۱ مسیح موعود) باشت حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ہر ایک چیز کا دنیا میں ایک موسم ہوتا ہے۔اگر وہ اس موسم سے ادھر ادھر ہو جائے تو پھر اس کا نشو و نما پانا یا اپنے قائم مقام چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔تمام قدرت میں یہی قانون نظر آتا ہے۔یار یک درباریک ذرائع ایسے ہوتے ہیں۔جن کے اجتماع سے بعض چیزیں بعض موسموں میں ہی نشوو نما پاتی ہیں۔ایک گیہوں کے ہونے کا ہوتا ہے۔ایک بڑھنے کا ایک کانٹے کا۔اگر وقت پر نہ ہوئیں یا ھنے کے وقت پانی نہ ملے۔بارش نہ ہو۔یا کاٹنے کے وقت نہ کائیں تو فصل ضائع ہو جائے گی۔اسی طرح علم کے پڑھنے کا ایک زمانہ ہوتا ہے۔بچپن کا زمانہ محنت کرنے کے لئے ہوتا ہے۔اس وقت افکار اور غموں کا تسلط بچوں کے دماغ پر نہیں ہوتا۔وہ ترقی کرتے ہیں۔مگر جب بڑی عمر ہو جائے تو افکار اور غموں میں انسان مبتلا ہو جاتا ہے اور تعلیم کے لئے جس قدر محنت کی ضرورت ہوتی ہے نہیں کر سکتا۔اگر ایسے حالات میں کوئی شخص کامیاب ہو تو وہ استثنائی صورت ہوگی۔ورنہ بچپن کے بعد جب انسان افکار میں گھر جاتا ہے تو یہ ایسا زمانہ ہوتا ہے کہ انسان مال اور وقت کی قربانی کر کے عبادت کے لئے مسجد میں جاتا ہے۔مگر جب نکلتا ہے تو افکار کا بوجھ لیکر آتا ہے۔پس پڑھنے کا زمانہ اور محنت کرنے کا زمانہ بچپن کا زمانہ ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص جوانی میں چاہے۔کہ پڑھائی اس وقت شروع کر کے کامل تعلیم حاصل کرے تو یہ مشکل ہوتا ہے۔اور اس میں سوائے شاذ کے کامیابی نہیں ہوتی۔اسی طرح ایک زمانہ رائے کی پختگی کا ہوتا ہے۔اس زمانہ میں انسان بڑی غلطیاں کرتا ہے۔اور دھکے کھا کر ایک اصل پر قائم ہوتا ہے۔لیکن رائے کی پختگی میں بھی بعض استثنائی صورتیں ہوتی ہیں۔پھر اس کے بعد ایک زمانہ آتا ہے۔کہ انسان اس میں پہلا تمام کیا کرایا بھول جاتا ہے۔اس میں