خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 23

پس جب مشورہ لیا جاتا ہے۔اور جن سے لیا جاتا ہے اس لئے لیا جاتا ہے کہ وہ صاف اور صحیح رائے دیں اگر یہی سلسلہ رہا۔اور اس سے فتنہ پڑنا لازمی ہے۔تو یا تو لوگ صاف رائے نہ دیں گے۔اور جب صاف رائے نہ ملے گی۔تو ہم اس سلسلہ ہی کو بند کر دیں گے۔پر اگر تم میں اہلیت پیدا نہ ہوگی۔تو تمہارا قصور ہو گا۔موجودہ کام کرنے والے مر جائیں گے اور تم کچھ کام نہ کر سکو گے۔پس دونوں راہیں کھلی ہیں۔چاہے آئندہ کو احتیاط کا پہلو اختیار کرو۔اور کام کی اہلیت سیکھو۔یا تم سے آئندہ مشورہ نہیں لیا جائے گا۔اگر ضرورت ہے کہ جماعت زندہ رہے۔اور کام کے اہل پیدا ہوں تو مشورے میں خیانت کا طریق نہایت غداری کا طریق ہے۔فتنہ کا طریق ہے۔اگر کسی کے خلاف سازش ہو تو اعلان کرو ورنہ مشورہ ظاہر کرنا خدا اور رسول اور بندوں کی امانت میں خیانت ہے۔اللہ تعالی تم میں کام کی اہلیت پیدا کرے۔اور تم مشورہ کی امانت داری کی اہمیت سمجھو۔اور خدا اور رسول اور بندوں کی امانت میں خیانت نہ کرو۔اور اس طریق سے بچو جس سے جماعت میں فتنہ پڑے۔بلکہ وہ راہ اختیار کرو۔جس سے جماعت بڑھے اور اس کا نظم ترقی کرے۔آمین۔خطبہ ثانیہ میں فرمایا۔میں نے جیسا کہ درس میں اعلان کیا تھا۔تبدیل آب و ہوا کے لئے نو یا دس روز کے واسطے باہر جاتا ہے۔میرے پیچھے مقامی جماعت کے امیر مولوی شیر علی صاحب ہونگے۔الفضل ۱۷ فروری ۱۹۳۱ء)