خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 287

٢٨ آیت سے استدلال کر کے فرمایا ہے۔آپ کو الگ بھی علم ہو گا مگروہ اسی آیت کے ماتحت تھا۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ روزے دار جو بھوک پیاس کی تکالیف اٹھاتے ہیں تو اس لئے اٹھاتے ہیں کہ خدا کو پائیں۔خدا کا پتہ معلوم کریں۔میں نے پہلے کئی بار بتایا کہ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ رمضان میں دعائیں بہت قبول ہوتی ہیں۔اس لئے یہ آیت قبولیت دعا کے ذرائع میں سے ہے۔لیکن آج میں یہ بھی بتاتا ہوں کہ یہ آیت قرب الہی کا ذریعہ ہے۔چنانچہ فرمایا ہے واذا سالک عبادی عنی فانی قریب اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) انا سالک عبادی جب تجھ سے سوال کریں میرے بندے میرے متعلق فانی قریب تو میں قریب ہوں۔اس آیت میں روحانی ترقی کا پہلا باب بیان کیا گیا ہے۔انسان پہلا قدم جو خدا کی طرف اٹھاتا ہے اس میں تین تبدیلیاں ہوتی ہیں جب تک یہ تین تغیر نہ ہوں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں ہو سکتا۔ہاں اگر یہ تغیر پیدا ہو جائیں تو قرب الہی حاصل ہو جاتا ہے۔وہ تین تغیر یہ ہیں۔اول خدا تعالی کے متعلق سوال پیدا ہو کہ خدا کو ملوں۔جب یہ خواہش ہو تو کامیابی کے رستہ کھلتے ہیں۔لیکن ہزار ہا انسان پیدا ہوتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ان کے دل میں کوئی خواہش پیدا نہیں ہوتی۔بلکہ جن کے دل میں یہ خواہش پیدا ہو ان پر ہنستے ہیں کہ کس خیال میں پڑے ہیں۔یہ شقاوت کی علامت ہے ایسے شخص کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔پس پہلے کسی چیز کی خواہش پیدا ہونی چاہئیے۔یہاں جو ولایت سے نو مسلمہ آئی ہوئی ہیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ تم نے جو عیسائی مذہب چھوڑ کر اسلام اختیار کیا اس کی کیا وجہ ہے۔کیوں نہ تم نے یہ خیال کیا کہ عیسائی مذہب جب جھوٹا ثابت ہوا تو سب مذاہب ہی جھوٹے ہیں۔انہوں نے جواب دیا کہ میری عقل مجھے بتاتی تھی کہ کوئی نہ کوئی مذہب ضرور ہونا چاہیے کیونکہ سچائی ہے ضرور۔خواہ وہ عیسائیت میں نہ ہو۔اس لئے مجھے اسے ڈھونڈنا چاہئیے۔اور وہ مجھے اسلام میں نظر آئی۔تو پہلا سوال یہی ہوتا ہے جو کسی چیز کی طرف انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ مجھے کسی چیز کی تلاش کرنی چاہیے۔جب یہ خواہش پیدا ہو جاتی ہے تو اس سے علم کو ترقی ہوتی ہے۔پھر خداتعالی فرماتا ہے دوسرا تغیر یہ ہونا چاہئیے مالک تجھ سے (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پوچھیں۔یعنی ہدایت پانے والے اور خدا کو تلاش کرنے کے لئے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جانا اور آپ سے پتہ دریافت کرنا ضروری ہے۔یہ دو تغیر ہوئے اول یہ کہ سوال کی خواہش پیدا ہو کہ مجھے کچھ پوچھنا اور تلاش کرنا ہے۔دوسرے اس سے پوچھے جو واقف ہے جس طرح بیمار کے تندرستی پانے کے لئے ضرورت ہے کہ وہ جان لے کہ وہ بیمار ہے۔اور دوسرے یہ کہ اس ڈاکٹر