خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 286

52 قرب الہی کی راہیں (فرموده ۳۶ / مئی ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد مندرجہ ذیل آیت تلاوت فرمائی۔اور فرمایا وانا سألك عبادي عني فاني قريب أجيب دعوة الداع اذا دعان فليستجيبوا لي وليؤمنوا بي لعلهم يرشدون (البقرة (۱۸) رمضان کا یہ آخری جمعہ ہے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا۔تو جن لوگوں کو توفیق ملی وہ ایک یا دو روزے اور رکھیں گے۔اس کے بعد پھر رمضان کس پر آئے گا اور کس پر نہیں آئے گا اس کا علم سوائے اللہ تعالی کے کسی کو نہیں۔اور کس کو آئندہ رمضان میں روزے رکھنے کا موقع ملے گا یہ بھی اسی کو معلوم ہے۔اس لئے اس رمضان سے جتنا بھی فائدہ حاصل ہو سکے اٹھانا چاہیے۔رمضان انسان کے لئے روحانی برکات اور ترقیات کا موجب ہے۔اگر ان طریقوں کو استعمال کیا جائے جو رمضان میں رکھے گئے ہیں تو انسان بہت نفع اٹھا سکتا ہے۔آج میں ایک آیت پڑھ کر جو رمضان شریف کے متعلق ہے۔کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس کے پہلے اور بعد روز بے کا ذکر ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت روزوں کے متعلق ہے۔یہ آیت یہاں بے جوڑ اور بے موقع نہیں۔قرآن کریم میں کوئی لفظ بھی بے موقع نہیں رکھا گیا۔جس لفظ کو خدا تعالیٰ نے جہاں رکھا ہے اس کے تعلق کی وجہ سے رکھا ہے اور اس کی مناسبت کے باعث رکھا ہے۔آیات قرآنی یونسی پراگندہ طور پر پھینک نہیں دی گئیں۔پس اس آیت کا رمضان سے خاص تعلق ہے۔میں نے اس کی طرف اشارہ بھی کیا تھا۔آج ایک اور بات بیان کرنا چاہتا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہر ایک نیکی کا کچھ بدلہ ہے لیکن روزے کا بدلہ میں خود ہوں۔۔۔یعنی ہر ایک نیکی کا بدلہ اللہ تعالٰی دیتا ہے لیکن روزے کے بدلہ میں خود اللہ تعالٰی کمتا ہے۔یہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔اپنے پاس سے نہیں فرمایا۔بلکہ اس