خطبات محمود (جلد 7) — Page 265
۲۶۵ کے ساتھ مل بیٹھنا پسند نہیں کرتے۔اور ایک چھت کے نیچے جمع ہونا نہیں چاہتے۔جب انبیاء کو شناخت کر لیتے ہیں تو ان پر اپنی جان تک دے دیتے ہیں دنیا میں ان کو ایک ہی چیز محبوب اور پیاری ہوتی ہے کہ وہ ان کے راستہ میں اپنی جان مال عزت سب دے دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رشتہ داروں میں اکثر مخالف اور چند ماننے والے تھے۔مگر تمام عرب کے لوگ جنہوں نے آپ کو مانا وہ آپ کو اپنی ہر ایک چیز سے زیادہ محبوب رکھتے تھے اگر شریعت لعنت ہوتی تو اس کے لانے والے دنیا میں سب سے زیادہ ذلیل اور حقیر ہوتے مگر بر عکس معالمہ یہ ہوتا ہے کہ شریعت لانے والوں پر جان تک قربان کرنے سے پر ہیز نہیں کیا جاتا۔حضرت عمرو بن العاص نے بیس سال تک شدید مخالفت کی۔وہ معمولی قسم کے مخالف نہ تھے۔بلکہ ایسے شدید مخالف تھے کہ خود کہتے جب میں مخالف تھا تو بوجہ انتہائی نفرت کے میں رسول کریم کی شکل نہ دیکھ سکتا تھا۔اور آپ کے ساتھ ایک مکان میں اکٹھا ہونا پسند نہ کرتا تھا۔لیکن پھر جب آپ کی شناخت نصیب ہوئی تو کہتے ہیں کہ آپ میری نگاہ میں اس قدر محبوب ہو گئے کہ میں بوجہ محبت کے رعب کے آپ کو نہ دیکھ سکتا تھا۔اور اب اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ کیا تھا تو میں نہیں بتا سکتا کہ ایک زمانہ میں نفرت کے باعث نہ دیکھ سکے۔اور دوسرے زمانہ میں رعب محبت کے باعث نہ دیکھ سکے سارے غزوہ حنین میں مکہ کے بہت سے لوگ اسلامی مجاہدوں میں شامل ہو گئے تھے اور ان میں داخل ہونے والوں کی تعداد ۲ ہزار تھی یہ لوگ صحابہ سے آگے آگے چلے اس خیال سے کہ مسلمانوں کو محسوس کرائیں کہ ہم خدمت اسلام میں پیچھے نہیں۔کفار نے مقابلہ کے لئے یہ تدبیر کی کہ ایک تنگ راستہ پر دائیں بائیں چند تیر انداز کھڑے کر دئے انہوں نے جب تیراندازی شروع کی تو وہ ۲ ہزار کے ۲ ہزار بھاگ پڑے۔صحابہ حیران ہو گئے اور ان کے گھوڑے ڈر گئے اور وہ بھاگڑ پڑی کہ سوائے رسول کریم اور چند صحابہ کے سب لوگ پراگندہ اور منتشر ہو گئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ دیا گیا کہ آپ بھی پیچھے ہٹ جائیں جس وقت دس بارہ ہزار کا لشکر بھاگ رہا ہو اس وقت کیا حالت ہوگی ایک صحابی کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم نہ تھا کہ ہم کدھر جا رہے تھے ہمیں معلوم تھا کہ نبی کریم پیچھے ہیں ہمارے جانور اس تیزی اور زور سے بھاگ رہے تھے کہ ہم اپنے اونٹوں کی مہاریں اس زور سے کھینچتے تھے کہ ہمارے ہاتھوں سے خون بہتا تھا اور اونٹ کی گردن کھینچ کر اس کی دم کے ساتھ لگ جاتی تھی۔مگر جب ہم پھر مہار کو ڈھیلا کرتے تو پیچھے مڑنے کی بجائے اونٹ سیدھے بھاگتے تھے۔ایسی حالت تھی اور اچانک جو بات پیدا ہو جائے اس میں یہی حالت ہوا کرتی ہے کیونکہ آدمی اس کے لئے تیار نہیں ہو گا۔اگر اس مجلس میں جس میں خطبہ جمعہ ہو رہا ہے کوئی شخص اٹھ کر شور