خطبات محمود (جلد 7) — Page 264
نهم ۲۶ 49 احکام الہی افضال الہی ہیں (فرموده ۵ مئی ۱۹۲۲ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ اور آیہ شریفہ يا ايها الذين امنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم (البقرة ۱۸۴) کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں نے نزلہ کی تکلیف کے باعث ایک ہی آیت پڑھی ہے۔اور مختصر طور پر اس کے متعلق بیان کرنا چاہتا ہوں۔میں نے پچھلے جمعہ بیان کیا تھا کہ یہ اللہ تعالٰی کے فضلوں میں سے ایک بہت بڑا فضل ہے کہ وہ کمزور انسان کی مدد کے لئے بولتا اور اس کی ترقی کے لئے آپ دروازہ کھولتا ہے یہ انسان کا حق نہیں تھا کہ اس کے لئے ایسا کیا جاتا۔پرندوں کو یہ طاقتیں نہیں دی گئیں۔انکو یہ دماغی قوتیں نہیں ملیں مگر خدا ظالم نہیں۔پھر حیوانات سے بھی کم قوت رکھنے والی چیزیں ہیں ان میں کوئی حرکت نہیں۔جانور بھاگ سکتے ہیں۔مگر درخت بھاگ نہیں سکتے۔گائے ایک آواز نکالتی ہے۔مگر ایک گیہوں یا مکی کا پودا آم یا توت کا درخت اپنی جگہ سے نہ ہل سکتا ہے نہ آواز نکال سکتا ہے۔گرمی سردی کے احساس کے اظہار کے لئے درخت کوئی آواز نہیں نکال سکتے۔ان کو یہ طاقتیں نہیں دی گئیں مگر خدا اس کے باعث ظالم نہیں تو اگر وہ انسان میں بھی اعلیٰ مقام پر پہنچنے کی طاقت نہ رکھتا تو ظالم نہ کہلاتا کیونکہ انسان اس کی مخلوق ہے۔پس اس کا انسان کو یہ طاقتیں دینا اس کا فضل ہے۔اور ان طاقتوں کے استعمال کے ذرائع بتانا اس کے فضلوں میں سے ہے۔وہ مبارک ساعت ہوتی ہے جب اللہ تعالی سے اس کو ہدایت نامہ ملتا ہے۔خدا تعالیٰ کے نبیوں میں سے کوئی نبی ایسا نہیں کہ اس کے ماننے والوں کو اس کے ماننے پر انتہائی خوشی نہ ہوتی ہو۔لیکن اگر شریعت لعنت ہوتی۔تو نبی سب سے زیادہ حقیر سمجھے جاتے۔کیونکہ دنیا میں سب سے ذلیل ظالم ہوتا ہے اور ظالم سے کوئی محبت کرنا نہیں چاہتا۔کیا وجہ ہے کہ ماننے والے لوگ انبیاء کو جو شریعت لانے والے ہوتے ہیں۔اپنا انتہائی محبوب سمجھتے ہیں۔وہ لوگ جو ان