خطبات محمود (جلد 7) — Page 233
جائے گی کہ جسے کوئی توڑ نہیں سکے گا۔اس وقت اس دیو کی مثال ہوگی جس کا قصہ بچپن میں پڑھا کرتے تھے۔کہ ایک ایسا دیو ہے کہ اگر اس کا سرکاٹ دیا جائے تو دس اور نکل آتے ہیں۔یہ تو قصہ ہی ہے۔مگر اس جماعت کا حال یہی ہو گا کہ اگر ایک کو کاٹا جائے گا تو دس نکل آئیں گے۔مگر جو یہ کہتے ہیں کہ فلاں یہ کام کریں۔ان میں سے جب وہ لوگ نہیں رہتے جن کے ذمہ کام سمجھ کر اپنے آپ کو آزاد سمجھا جاتا ہے تو جماعت ٹوٹ جاتی ہے۔کوئی جماعت کامیاب اسی وقت ہوتی ہے جبکہ اس کا ہر فرد سمجھتا ہو کہ سلسلہ کا چلانا اور کام کو جاری رکھنا میرے ذمہ ہے ہاں انتظام اور نگرانی کرنا ایک کے سپرد ہے۔خلافت کا قیام جماعت کے اجتماع کے لئے ہے۔نہ اس لئے کہ ایک کے ذمہ سارا کام ہو جاتا ہے۔اور باقی آزاد ہو جاتے ہیں۔یہ بات ہے جو میں چاہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے لوگ سمجھیں۔ایک ادنیٰ سے ادنی اور جاہل سے جاہل انسان میں بھی یہ جوش اور خیال ہونا چاہیے کہ میں خلیفہ ہوں اور خدا کے دین کی اشاعت کا کام میرے ذمہ لگایا گیا ہے اگر ہماری جماعت میں یہ احساس پیدا ہو جائے۔تو میں سمجھتا ہوں کہ اب تو زیادہ جماعت ہے اگر اس کا چوتھا نہیں ہزارواں حصہ بھی جماعت ہوتی تو دنیا کو فتح کرنے کا کوئی فکر نہ ہوتا لیکن اب یہ جو حالت ہے کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں اشاعت دین خلیفہ کا کام ہے۔یا ناظر یا اور لوگ اس کے ذمہ دار ہیں۔اس صورت میں اگر 10 کروڑ بھی اور لوگ شامل ہو جائیں۔تو کچھ نہیں کر سکتے۔حضرت مسیح موعود فرمایا کرتے تھے کہ اگر چالیس آدمی مل جائیں تو دنیا فتح ہو سکتی ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ جماعت کی تعداد ۴ لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔پھر چالیس آدمی کیسے چاہتے تھے ؟ ایسے ہی کہ جن میں سے ہر ایک یہی کہے کہ اشاعت اسلام کا کام میرے سپرد ہے۔اور میں ہی اسے پورا کرنے کا ذمہ دار ہوں اب بھی اگر ایسے چالیس آدمی مل جائیں تو دنیا کا فتح کرنا مشکل نہیں چند دن میں دنیا کا نقشہ بدلا جا سکتا ہے۔لیکن اگر ایسے غافل لوگ جن کی عادتیں اس رنگ کی ہیں۔جس طرح چند پیسے چوکیدار کو دیکر اپنے آپ کو امن میں سمجھ لیتے ہیں یا جن کی مثال اس کبوتر کی سی ہے جو بلی سے بچنے کے لئے آنکھیں بند کر کے بیٹھ رہتا ہے۔یہ خواہ کتنے بھی ہوں کچھ نہیں کر سکتے۔جب تک ہر شخص کے دل میں یہ امنگ اور یہ جوش نہ ہو کہ میں خدا کے دین کو دنیا میں پھیلاؤں گا اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی۔ایسے جوش والے اگر چالیس آدمی بھی پیدا ہو جائیں تو چند ہی دن میں عظیم الشان تغیر کر سکتے ہیں۔مگر میں افسوس کرتا ہوں کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود ابھی تک یہ احساس پیدا نہیں ہوا اور لوگ یہی سمجھے بیٹھے ہیں کہ کام کے ذمہ دار خلیفہ یا دو چار شخص ہیں۔حالانکہ خلیفہ کا کام تو یہ ہے کہ نگرانی کرے اور دوسرے کے سپرد کام کرے۔جو سب کے سب اپنے آپ کو کام کے ذمہ وار