خطبات محمود (جلد 7) — Page 228
۳۲۸ ابو عبیدہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مدد طلب کی۔حضرت عمر نے ایک آدمی بھیج دیا اور لکھ دیا کہ یہ ایک ہزار کے برابر ہے۔اس وقت لوگوں نے اس کو ہنسی نہیں سمجھا تھا۔بلکہ اللہ اکبر کے نعرے لگائے تھے یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ وہ مبلغ کامیاب نہیں ہو سکتے۔جو احمدیوں کے علاقے میں جاتے ہیں۔بلکہ ان کو چاہیے کہ ان علاقوں میں جائیں۔جہاں احمدی نہیں۔مبلغ کی کامیابی یہ نہیں کہ وہ احمدیوں کے پاس گیا۔اور تبلیغ کر کے آگیا۔بلکہ یہ ہے کہ وہ سو میں سے نوے غیر احمدیوں کے گاؤں میں جائے۔اور دس احمدیوں کے دیہات میں پھرے۔اور اس بات کی کوشش کرنی چاہئیے کہ نئے نئے مبلغ پیدا ہوں۔اور وہ ایک انتظام کے ماتحت ہوں۔یہ نہیں کہ جو جس کے جی میں آئے وہ کرے۔بڑا نقص یہ ہے کہ ہمارے لوگ دوسروں سے کام لیتا نہیں جانتے۔اور بجائے دوسروں کو سکھانے کے وہ کام خود کرنے لگ جاتے ہیں۔نبی کیوں دوسروں پر افضل ہوتا ہے۔اس لئے کہ وہ نئے مبلغ تیار کرتا ہے۔جس طرح حضرت صاحب نے نئے انسان پیدا کئے۔اسی طرح اگر ہم لوگ پیدا کرتے تو چند سال میں ہماری جماعت کروڑوں تک پہنچ جاتی۔بلکہ وہ وقت جلد آجاتا کہ دنیا میں احمدی ہی احمدی ہوتے۔پس مبلغوں کو چاہیے کہ دوسروں کو سکھائیں اور ان علاقوں کے آدمیوں سے کام لیں۔یہ ظاہر ہے کہ ایک شخص ضلع کا دورہ نہیں کر سکتا اس کے لئے چند باتوں کی ضرورت ہے۔اول تو یہ کہ وہاں کے لوگوں سے مناسب کام لیا جائے۔اور ان میں سے اپنے کام اور اعتماد کے قابل آدمی انتخاب کئے جائیں۔اور ہر گاؤں میں دورہ اور لیکچر ہو (۲) اپنے اندر ایک جنون کی سی حالت پیدا ہو جائے (۳) ان علاقوں میں جائیں جہاں پہلے احمدی نہیں (۴) خدا پر توکل کریں اور دعا کریں۔اگر اس طرح کام کیا جائے تو ایک ہی سال میں دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے۔میں نے خطبہ میں اس لئے اعلان کیا ہے۔کہ جن کے سپرد یہ کام کیا ہے۔وہ اپنے کام کی اہمیت کو سمجھ لیں۔ایک اور نصیحت یہ ہے کہ چونکہ جماعت کی مالی حالت کمزور ہے۔اس لئے بعض اخراجات کو اپنے اوپر ڈالنا چاہیے۔اور قلیل سے قلیل جو ممکن ہو۔وہ بیت المال سے لینا چاہیے۔اس کے بعد میں جماعت کی خوشی کے لئے بتاتا ہوں کہ تحفہ کی قبولیت کا جواب آگیا ہے۔جس میں شہزادہ صاحب نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس کو پڑھیں گے۔ہم دعا کرتے ہیں کہ کہ الہی ہم سے جو کچھ ہو سکتا تھا وہ ہم نے کر دیا۔اللہ تعالیٰ جہاں شہزادے صاحب کو پڑھنے کی توفیق دے۔ان کے دل کو بھی کھول دے۔اور ان کو اپنی قوم کے لئے اسلام کا سفیر اور پیش خیمہ بنائے۔آمین ثم آمین الفضل ۱۶ مارچ ۱۸۲۲ء)