خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 176

144 33 اپنی زندگیوں کو زندہ بناؤ (فرموده ۱۶ دسمبر ۱۹۲۱ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔بسبب نزلہ اور کھانسی چونکہ حلق میں تکلیف ہے۔اس لئے آج میں کچھ زیادہ بات کرنا نہیں چاہتا۔مگر مختصر الفاظ میں ایک امر کی طرف اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں میں نے اس کے متعلق پہلے بھی بتایا ہے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ میں اب تک لوگوں میں ایسی روح نہیں دیکھتا جس سے معلوم ہو سکے کہ انہوں نے اس بات کو سمجھ لیا ہے۔اور اگر سمجھ لیا ہے تو عمل کرنے کی طرف توجہ کی ہے۔وہ بات یہ ہے کہ صرف کسی طریق کو اختیار کر لینا کسی مقصد کا پالینا نہیں ہوتا۔کسی طریق کے اختیار کرنے کے صرف یہ معنی ہوا کرتے ہیں کہ ایک صداقت کا انسان اقرار کر لے۔مگر صرف صداقت کا اقرار کافی نہیں ہوتا۔صداقتیں دنیا میں موجود ہوتی ہیں۔لیکن صرف ان کے اقرار سے کسی کو کوئی نفع نہیں پہنچتا۔اور نہ صرف صداقت کا اقرار کر لینے سے دنیا میں ایسی روح پیدا ہو سکتی ہے۔جو کسی تغیر کا موجب ہو سکے۔بہت لوگ ہیں جو عیسائیت کو سچا مانتے ہیں۔مگر باجود ان کے عیسائیت کو سچا ماننے کے۔ہندوؤں کے ہندو مذہب کو سچا ماننے کے مسلمانوں کے اسلام کو سچا ماننے کے ان کی زندگیاں بچپن سے موت تک کوئی ایسی حرکت نہیں پیدا کر سکتیں جسے دائمی حرکت کہا جا سکے۔کروڑں بچے ہندوؤں ، عیسائیوں اور مسلمانوں کے ہاں پیدا ہوتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ان کے پیدا ہونے سے نام کے طور پر عیسائیوں ، ہندوؤں یا مسلمانوں کو کوئی فائدہ ہو تو ہو۔مگر ان کی وجہ سے جس مذہب میں وہ پیدا ہوتے ہیں اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔وجہ یہ کہ ان کے کسی مذہب کو مانے کا اقرار اسی حد تک ختم ہو جاتا ہے۔کہ ہم مانتے ہیں کہ یہ سچائی ہے۔لیکن اس طرح مان لینے پر وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اور نہ یہ جانتے ہیں کہ وہ سچائی جسے انہوں نے مانا ہے دنیا کے لئے کیسی مفید ہو سکتی ہے۔اور کیسے نیک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔اس سچائی