خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 152

۱۵۲ سے کم گنہ گار ہے۔مگر کیا وہ خوش ہونے کے قابل ہے۔پھر خداتعالی فرماتا ہے۔منافق جنم کے ادنیٰ درجہ میں ہونگے۔کیا اوپر کے درجہ والا جہنمی خوش ہو سکتا ہے۔اسی طرح قادیان والوں کو جو نسبتی ترقی حاصل ہے۔یہ خوشی کا موجب نہیں ہو سکتی۔اور جہاں مجھے دوسروں کے مقابلہ میں ان کے نسبتی درجہ سے انکار نہیں۔وہاں اس سے بھی انکار نہیں۔کہ ابھی ان کے سامنے بہت لمبا رستہ ہے جو عبور کرتا ہے۔اور اس کی طرف پچھلے خطبوں میں میں نے توجہ دلائی ہے۔میں اس سلسلہ مضمون کو تو اس وقت بیان نہیں کر سکتا۔کیونکہ جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں۔میرے حلق میں درد ہے۔اس لئے زیادہ بول نہیں سکتا۔البتہ خلاصتہ " سناتا ہوں کہ میرا مقصد اور مدعا ان خطبات سے کیا ہے۔میں نے اب تک جو کچھ بیان کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔کہ یہاں جو لوگ آتے ہیں۔دین کی خدمت کے لئے آتے ہیں۔اور اشاعت اسلام کی غرض سے آتے ہیں۔وہ خدمت خواہ دینی رنگ میں ہو۔یا دنیاوی رنگ میں۔مثلاً مسجد میں نماز کے لئے جو لوگ آتے ہیں۔انہیں گرم پانی دینا یہ ایک کام ہے۔مگر تم نہیں کہہ سکتے۔کہ یہ کام کرنے والا دنیاوی کام کرتا ہے۔جو کچھ وہ لاتا ہے۔وہ پانی ہے۔اور اس کا گرم کرنا بھی مادی کام ہے۔پھر مسجد میں لاکر رکھنا بھی مادی کام ہے۔پھر جس غرض کے لئے استعمال ہوتا ہے۔وہ یہ ہے کہ نزلہ زکام نہ ہو۔گویا صحت کے لئے۔یہ بھی دنیاوی ہے۔مگر پھر بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ دنیاوی کام ہے۔صحابی جب لڑائی کے لئے جاتے تھے۔تو تلوار ان کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔یہ جسمانی چیز تھی۔گھر بار بال بچے چھوڑ کر جاتے تھے۔یہ بھی جسمانی چیزیں تھیں۔اور جس چیز کے لئے لڑتے تھے۔وہ بھی جسمانی تھی۔ایمان نہ تھا۔بلکہ مسلمانوں کی جان تھی۔اگر حضرت ابو بکڑ مارے جاتے تو کیا انکا ایمان جاتا رہتا یا اگر حضرت عمر مارے جاتے تو ان کا ایمان ضائع ہو جاتا؟ نہیں۔لیکن ان کی جان چلی جاتی۔کافر مسلمانوں کے ایمان کو چھین نہیں سکتے تھے۔البتہ جانیں نکال سکتے تھے۔کافر مسلمانوں کے گھروں، کھیتوں اور جسموں کو مٹانا چاہتے تھے۔اور یہ سب چیزیں جسمانی تھیں۔مگر کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ سات آٹھ سال دنیاوی غرض کے لئے کفار سے لڑتے رہے۔جنگ بدر اور احد کس بات کے لئے کی گئی۔کیا اسی لئے نہیں کہ مسلمانوں کے گھر مسلمانوں کے کھیت اور مسلمانوں کی جانیں بچائیں۔اس سے زیادہ کفار اور کرہی کیا سکتے تھے۔کیا وہ قرآن چھین کر لے جاسکتے تھے۔یا ایمان اٹھا کر لے جا سکتے تھے۔ان چیزوں کا لے لینا ان کی طاقت سے باہر تھا۔اور گو جن چیزوں کی حفاظت کی جاتی تھی۔وہ جسمانی تھیں۔مگر ایمان پانی کی طرح ہے۔اور جس طرح پانی برتن میں ٹھہرتا ہے۔اسی طرح ایمان مومنوں کے قلب میں ٹھہرتا ہے۔اور مومنوں کا بچانا اگرچہ