خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 151

میں جانتا ہوں۔کہ وعدہ کرنے کے وقت کئی آدمی ہمت اور طاقت سے زیادہ جرات دکھاتے ہیں اور اگر ان کی نیت پورا کرنے کی ہوتی ہے۔ریا کی غرض نہیں ہوتی۔تو میں سمجھتا ہوں یہ بھی ایک نیکی ہے۔گو اس سے ایک نقص بھی پیدا ہو جاتا ہے۔کہ بار بار انسان وعدہ کرتا ہے۔تو بار بار اسے پورا نہیں کر سکتا۔اور جب بار بار پورا نہیں کر سکتا۔تو وعدہ کی اہمیت اور قدر اس کے دل میں نہیں رہتی۔ایسے حالات میں میں جانتا ہوں کہ ایسے بھی لوگ ہونگے جن کے لئے اب وعدہ پورا کرنا مشکل ہو گا۔مگر میں جانتا ہوں کہ اس غلطی کی اصلاح بھی اسی طرح ہو سکتی ہے کہ وعدہ پورا کیا جائے۔کیونکہ ایک دفعہ جب تکلیف اٹھا کر کوئی شخص وعدہ پورا کرے گا۔تو دوسری دفعہ محتاط رہے گا کہ وہی وعدہ کروں جو پورا کر سکوں۔پس میں ان لوگوں کو جنہوں نے جلسہ کے متعلق وعدے گئے ہیں یاد دلاتا ہوں کہ اپنے وعدے پورے کریں۔میں منتظم صاحب سے اس بات میں متفق نہیں ہوں۔کہ قادیان کے لوگ وعدہ کر کے اسے پورا کرنے میں سستی کرتے ہیں۔میرا تجربہ ہے کہ قادیان کے لوگ چندوں کے وعدوں اور ان کے ایفا میں بہت بڑہے ہوئے ہیں۔اس میں شک نہیں۔کہ جتنی جماعت قادیان میں ہے۔اتنی اور کسی شہر میں نہیں ہے۔یہاں قریباً اڑھائی ہزار احمدی ہیں۔اتنی جماعت کس اور شہر میں نہیں ہے۔اور کوئی قصبہ ایسا نہیں ہے۔جہاں اتنی جماعت اکٹھی ہو۔اب کمزوروں کا اندازہ لگاتے وقت بھی اس تعداد کو مد نظر رکھنا چاہئیے۔اگر کسی جگہ دو سو میں سے دس کمزوری دکھاتے ہیں۔تو اسی نسبت سے یہاں سوا سو میں کمزوری ہو سکتی ہے۔تو یہاں کی کثرت معیار نہیں ہو سکتی۔کیونکہ یہاں آبادی کی تو کثرت ہے۔کسی اور جگہ اگر ایک کمزور ہو۔اور یہاں پر دس تو تعجب کی بات نہیں۔کیونکہ جہاں ایک کمزور ہے۔وہاں کل تعداد دس ہے۔اور جہاں دس کمزور ہیں۔وہاں کی تعداد اڑہائی ہزار ہے۔پس اس نسبت سے دیکھنا چاہیے۔اور اس کے مطابق میں تو دیکھتا ہوں کہ یہاں کے لوگ ایثار اور قربانی میں دوسروں سے بہت بڑہے ہوئے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ جہاں انہوں نے پہنچنا ہے۔وہاں پہنچ گئے ہیں۔کیونکہ پچھلے ہفتوں میں انہوں نے دیکھ لیا ہے۔جو میں ان کے متعلق خیال رکھتا ہوں۔بات یہ ہے۔کہ نہ تم اس مقام ابھی پہنچے ہو جہاں تمہیں پہنچنا چاہئیے۔اور نہ میں نے وہ رستہ طے کر لیا ہے جو مجھے کرنا ہے۔تمہارے آگے بھی اور میرے آگے بھی بہت وسیع رستہ ہے۔جسے عبور کرنا ہے۔اس لئے خوشی اور مسرت کا وہی موقع ہو گا۔جب ہم اس جگہ پہنچ جائیں گے جہاں ہمیں پہنچنا ہے۔دیکھو ایک عیسائی ایک یہودی سے کم کافر ہے۔مگر یہ اس کے لئے خوشی کا مقام نہیں۔اسی طرح ایک ہندو ایک دہریہ