خطبات محمود (جلد 7) — Page 137
30 ایک عام نصیحت (فرموده ۲۵ / نومبر ۱۹۲۱ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔اس سلسلہ مضمون کے متعلق جس پر میں پچھلے چند ہفتوں سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہوں۔اور اسی تسلسل میں جو پچھلے خطبہ جمعہ میں بیان کیا گیا تھا۔آج بھی میں کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔کیونکہ اس دن ایک سوال تھا جو رہ گیا تھا۔مگر اس کی تشریح کرنے سے پہلے آج بھی میں چند ضمنی باتیں بیان کرنا چاہتا ہوں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ دنیا میں کسی قوم کسی جماعت اور گروہ کے قابل ہونے اور کوئی کام کرنے کی لیاقت رکھنے کی بعض علامتیں ہوتی ہیں۔جن میں سے ایک یہ ہے۔کہ وہ جماعت یا قوم یا گروہ صحیح سیاست کو سمجھے۔نظام اجتماعی کے لئے جن باتوں کی ضرورت ہے۔ان کا علم رکھے۔اس لفظ (نظام اجتماعی) کو بہت لوگ نہ سمجھتے ہونگے۔اس لئے یہ کہو کہ اکٹھے مل کر رہنے اور کام کرنے کے لئے جن باتوں کی ضرورت ہے۔جب تک جماعت کے افراد ان کو نہ سمجھتے ہوں۔اور سمجھنے کے یہ معنی نہیں کہ جب ان کو سمجھایا جائے۔تو سمجھیں۔بلکہ یہ ہیں کہ موقع اور محل کے مناسب ان باتوں کے متعلق خود ان کے اندر ایسی طاقت ہو۔ایسی قوت اور سمجھ ہو کہ جسے استعمال کر سکیں۔اس وقت تک کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ایک بزرگ کا واقعہ ہے۔اور وہ اس موقع پر صحیح طور پر منطبق ہوتا ہے۔اس لئے سناتا ہوں۔کہتے ہیں ان کے پاس تصوف کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک شخص آیا۔اور پڑھتا رہا۔ان کا نمونہ دیکھ کر سبق حاصل کرتا رہا۔جب اس نے بہت علم حاصل کر لیا تو چاہا کہ واپس وطن جائے اور جا کر دوسروں کو یہ علم سکھائے۔بزرگ نے اس سے سوال کیا تم واپس تو جانے لگے ہو۔مگر یہ تو بتاؤ تمہارے ملک میں شیطان ہوتا ہے یا نہیں؟ اس نے کہا۔حضور شیطان کہاں نہیں ہوتا۔ہر جگہ ہوتا ہے اور وہاں بھی ہے۔انہوں نے پوچھا۔اگر وہاں بھی ہوتا ہے تو تمہارا مقابلہ کرے گا یا نہیں؟ اس