خطبات محمود (جلد 7) — Page 83
۸۳ نبیوں جیسے ہو گئے۔حضرت ابو بکر بھی دعا کرتے تھے۔مگر خاتم النبین نہیں بنے۔آپ کو اللہ تعالٰی نے صدیق کا درجہ عطا فرمایا۔اور سرداری اور استاذکی امت کا درجہ ان کو ملا۔اور ان کے ذریعہ اسلام کو دوبارہ قائم کیا گیا۔مگر پھر بھی رسول کریم والا درجہ نہیں ملا۔حضرت عمرہ بھی یہی دعا کرتے تھے۔مگر انکو وہ درجہ نہیں ملا۔جو صدیق کو ملا۔حضرت عثمان بھی یہی دعا کرتے تھے کہ اھدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم الفاتحہ : ۷۶) مگر جو درجہ صدیق اور فاروق کو ملا تھا۔وہ حضرت عثمان کو نہ ملا۔حالانکہ وہ بھی یہی دعا پڑھتے تھے۔بلکہ زیادہ دفعہ پڑھتے نسبت حضرت ابوبکر کے۔جیسا کہ حدیثوں میں لکھا ہے کہ حضرت ابو بکر کو نمازوں کی وجہ سے فضیلت نہیں بلکہ اس بات کی وجہ سے ہے۔جو ان کے دل میں ہے۔پھر حضرت علی بھی یہی دعا کرتے تھے۔مگر ان کو وہ درجہ نصیب نہ ہوا۔جو پہلوں کو ملا۔پھر صحابہ میں سے عشرہ مبشرہ بھی یہی دعا پڑھتے تھے۔زبیر - طلحہ سعید سعد - ابو عبیدہ وغیرہ ان میں بعض بعض سے بڑے اور بعض بعض سے چھوٹے تھے۔مگر ابو بکر اور عمر کے درجے کو نہیں پہنچے۔پھر اور صحابہ تھے۔جو اسلام کی راہ میں شہید ہوئے۔یا اسلام کی تعلیم کو لوگوں میں پھیلایا۔یا روحانی مدارج کو حاصل کیا۔یا قضا کا کام کیا وغیرہ مگر انکو وہ درجہ نہ ملا جو اول الذکر لوگوں کو ملا۔پھر وہ لوگ بھی تھے۔جو نمازیں بھی پڑھتے تھے۔مگر منافق تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسے امام کی اقتدا میں نماز پڑھتے تھے۔سوائے عشاء اور صبح کی نمازوں کے۔ان کو کچھ بھی نہ ملا۔ان کی نسبت فرمایا۔في الدرك الأسفل من النار (النساء : ۱۴۶) آج مسلمان بھی یہی دعا پڑھتے ہیں۔مسجدوں میں بھی جاتے ہیں۔اور بڑے بڑے وظیفے پڑھتے چلے کاٹتے ہیں۔نوافل پڑھتے ہیں مگر چہروں پر لعنت برس رہی ہے۔ذلت میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔پس دعا کے ساتھ معلوم ہوتا ہے اخلاص کا حصہ بھی ضروری ہے۔دو آدمی ایک ہی کھانا کھاتے ہیں۔ایک موٹا ہو جاتا ہے دوسرا دبلا ہی رہتا ہے۔تو ہمیشہ لفظوں کو ہی نہیں دیکھا کرتے۔بلکہ اس کے ساتھ اخلاص۔ایمان اور اندرونی حالت کو بھی دیکھتے ہیں۔جب پانی برستا ہے تو ایک درخت کڑواہٹ میں بڑھ جاتا ہے۔دوسرا شیرینی میں تیسرا کھٹاس میں۔حالانکہ ایک ہی پانی ہوتا ہے۔سیب کا درخت جو کم میٹھا ہے وہ کم ہی میٹھا ہے۔جو زیادہ میٹھا ہے۔وہ اور زیادہ شیریں ہو جاتا ہے۔حضرت ابو بکر نے اپنے کمال کے مطابق فائدہ اٹھایا۔حضرت عمر نے اپنے اخلاص کے مطابق چونکہ حضرت ابو بکر والا اخلاص حضرت عمر میں نہ تھا۔اگرچہ ان کا اخلاص بھی نہایت اعلیٰ تھا۔اس لئے مدارج میں تفاوت ہوا۔پس یہ دعا اهدنا الصراط المستقيم جو خدا تعالی نے سکھائی ہے۔مختلف لوگوں نے مختلف نتائج اس سے حاصل کئے ہیں۔اور اپنے اپنے مدارج کے ماتحت ہر انسان اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔