خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 82

۸۲ 21 مسلمان بننے کیلئے اسلام کے ہر ایک حکم پر عمل کرو (فرمود ۱۹ار اگست ۱۹۲۱ء بمقام ناسنور کشمیر) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔مسلمان ہر روز پانچ وقتوں میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت عليهم غير المغضوب عليهم ولا الضالين (الفاتحه : ۶-۷) یعنی ہمیں سیدھا راستہ دکھا ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرا انعام ہوا۔پانچ وقتوں میں کم سے کم تھیں چالیس دفعہ یہ دعا کی جاتی ہے صبح سورج چڑھنے سے پہلے زوال کے بعد سورج ڈوبنے سے پہلے اور بعد اور سونے کے وقت اور علاوہ اس کے اور وقتوں میں بھی مثلاً رات کے پچھلے حصہ میں اور سورج نکلنے کے کچھ دیر بعد وہ سیدھا راستہ کیا ہے جس کے لئے مسلمان دعا مانگتا ہے کہ مجھے مل جائے اور مجھے اس پر چلایا جاوے یہاں قرآن کریم نے بیان تو فرمایا نہیں صرف الفاظ رکھ دئے ہیں کہ سیدھا راستہ دکھا اس لئے کسی خاص بات تک اس دعا کو محدود کر دینا درست نہیں۔یہ کہہ دینا کہ اس سے فلاں بات مراد ہے یا فلاں غلط ہے۔کیونکہ اگر کوئی خاص بات مراد ہوتی۔تو قرآن کوئی قرینہ بتلا دیتا۔یا بات بیان فرما دیتا۔لیکن قرآن نے یہاں اشار تا " بھی نہیں بتایا۔کہ کوئی خاص ہدایت مراد ہے۔اور نہ کوئی قرینہ بیان کیا ہے۔کہ جس سے کوئی حد بندی ہو سکے۔عام الفاظ رکھے ہیں۔پس عام معنی ہی لیتے ہیں کہ جس امر میں ہمیں سیدھا راستہ درکار ہو اسی امر میں سیدھا راستہ مل جائے۔میں ایک اصل بیان کرتا ہوں جس سے یہ عام دعا قبول ہو جائے۔اگرچہ ہر ایک دعا کی کیفیت کی حد بندی رکھی گئی ہے مختلف لوگ مختلف وقتوں میں جو دعائیں کرتے ہیں۔خاص خاص درجوں کے ماتحت قبول ہوتی ہیں۔یہ درجے کچھ اعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں اور کچھ اخلاص کی وجہ سے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعا کی۔اور آپ نبیوں کے سردار بن گئے۔ایک طرف تو خدا تعالٰی کا وہ قرب ملا کہ آپ کو خدا سے جدا کرنا مشکل ہو گیا۔دوسری طرف بندوں پر وہ فیوض جاری کئے کہ آپ کے متبعین تک نبیوں میں شامل ہو گئے یا