خطبات محمود (جلد 7) — Page 72
۷۲ بعد مسلمانوں کے ساتھ ملنے جلنے سے انکو معلوم ہوا کہ شرک ایسا لغو خیال ہے۔اور پھر اس سے انکا دل متنفر ہو گیا اور وہ ترقی کرنے لگ گئے اصل راز اور جڑان کی ترقی کی یہی تھی۔خیالات کی درستی انسانی ترقی کے لئے از بس ضروری ہے۔جب تک انسان کے خیالات پاک نہ ہوں۔ترقی نہیں ہو سکتی۔سورہ فاتحہ اور دیگر مقامات قرآن مجید سے یہی ثابت ہوتا ہے۔انسان کی پیدائش کی غرض صرف ایک ہی ہے کہ بندہ خدا تعالیٰ کا فرمانبردار اور مطیع ہو جاوے۔جو شخص ایک مقصد اور مدعا کے ماتحت کام کرتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔اور جو یہ نہیں سمجھتا کہ خدا تعالیٰ نے اس کو کیوں پیدا کیا ہے۔وہ ہر ایک لالچ میں پھنس کر اس کے پیچھے پڑ جاوے گا۔دوسروں کو اچھا کھاتے اور اچھا لباس پہنتے دیکھ کر وہ انہی کے پیچھے لگ جاوے گا۔اور اس کی مثال اس ہر دل عزیز آدمی کی طرح ہوگی جو ہر ایک کی مدد کرنے کو تیار ہو جاتا تھا۔ہر ایک مفید کام کی ضرور غرض و غایت بھی ہوتی ہے۔انسان تب ہی کسی غرض کو پورا کر سکتا ہے جب وہ سمجھ لے کہ وہ اسی غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔خدا تعالٰی نے انسان کی پیدائش کی یہ غرض بتائی ہے ما خلقت الجن والانس الا ليعبدون (الذاریات : ۵۷) لوگوں کے اعمال کی خرابی کی جڑ یہی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ کیوں ان کو خدا نے پیدا کیا ہے۔خدا تعالیٰ کی عبادت کرنے سے انسان اس جگہ پہنچ جاتا ہے۔جہاں خدا تعالی کی جلوہ گاہ ہے۔دوست اور بھائی تو الگ بھی رہ سکتے ہیں۔مگر غلام ہمیشہ اپنے آقا کے ساتھ ہی رہتا ہے۔ان میں فرق نہیں ہوتا۔خدا تعالی کا مقام وہ مقام ہے جہاں ہلاکت کا کوئی خدشہ نہیں۔اور یہ بندہ کو وفات کے بعد ملتا ہے۔اس کا نام جنت ہے۔اس جگہ انسان کا علم کامل اور معرفت درست ہو جاتی ہے۔جنت خدا کا گھر ہے۔بندہ رہتا تو بندہ ہی ہے۔مگر وہ الوہیت کی چادر میں لپیٹا جاتا ہے۔انسان کو دنیا میں اس غرض کے لئے بھیجا گیا ہے۔کہ وہ روکوں کو دور کر کے خدا کا قرب حاصل کرے کیونکہ کوئی انعام کا مستحق تب ہی ہو سکتا ہے۔جب وہ مشکلات اور محنت کے بعد کسی چیز کو حاصل کرتا ہے۔چونکہ خدا تعالیٰ کا قرب اور معرفت سب سے بڑا انعام ہے اس لئے یہ بڑی رکاوٹوں اور مصائب کے بعد ہی مل سکتا ہے۔انسان کے ساتھ شہوات اور دیگر رکاوٹیں ہمیشہ لگی رہتی ہیں۔یوں تو میری مخاطب ساری جماعت ہے۔مگر خاص طور پر یہاں کی جماعت کو مخاطب کرتا ہوں۔یہ علاقہ اپنے اندر خاص خصوصیت رکھتا ہے۔تمام دنیا کے لوگ یہاں سیر کے لئے آتے ہیں۔بوجہ ان نعمتوں کے جو یہاں پیدا کی گئی ہیں۔بعض طبائع ایسی ہوتی ہیں۔کہ نعمتوں کے ملنے پر وہ خدا تعالٰی کی طرف جھکتی ہیں اور بعض سزا سے جھکتی ہیں۔پہلے گروہ کے لئے یہاں بہت آسانی ہے۔جو دوست یہاں رہتے ہیں۔وہ اپنی زندگی کے مقاصد پر غورو فکر کر کے دیکھیں اور اپنے اعمال کی درستی کریں۔بعض دفعہ تکلیف اور بعض دفعہ راحت بطور سزا آتی ہے۔ہمارے دوستوں کو خاص طور پر