خطبات محمود (جلد 7) — Page 73
سمجھنا چاہیے کہ پیدائش کی غرض و غایت قرب الہی ہے۔وہ کھاتے پیتے اور پہنتے وقت دیکھ لیں کہ آیا یہ اس غرض کے خلاف تو نہیں۔یہاں لوگ شرک بکثرت کرتے ہیں۔انہیں بندوں کا خوف بہت ہے اور خدا کا خوف نہیں۔یہ شرک کی سزا ہے۔اس کا علاج صرف یہی ہے۔کہ وہ خدا کے بندے ہو جائیں۔جو خدا کا ہو جاتا ہے اس کی ترقی اور اس کی راحت و آرام کا سامان خود خداتعالی مہیا کرتا ہے۔دنیاوی اور دینی ترقی بھی اسی میں ہے کہ انسان خدا کا بندہ ہو جاوے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت مصائب آئے مگر ان سے آپ پر کبھی خوف طاری نہیں ہوا۔آپ کو جنگ احد کے وقت کفار نے پکارا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کہاں ہے؟ آپ نے صحابہ کو جواب دینے سے منع فرمایا۔پھر کفار نے ابو بکر و عمر کو پکارا۔اور آپ نے خاموشی کا ہی حکم دیا۔مگر جب کفار نے پکارا اعل هبل اعل هبل تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت جوش میں آئی اور آپ نے فرمایا کہ کیوں نہیں جواب دیتے الله اعلى واجل اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم نے کبھی اپنی ذاتی اور اپنی جماعت کی عزت کو مد نظر نہیں رکھا۔بلکہ آپ کے مد نظر ہمیشہ اللہ تعالٰی کے نام کی عزت رہی ہے۔مومن مشکلات اور مصائب کے وقت زیادہ بہادر اور دلیر ہو جاتا ہے۔کیونکہ جو خدا کا ہو جاتا ہے۔وہ کبھی ہلاک نہیں ہوتا۔اگر اس پر مصیبتیں اور تکلیفیں دوسروں سے زیادہ آئیں تو بھی وہ سلامت رہتا ہے۔اور آگے سے بھی بڑھ کر اپنے فرض کو ادا کرتا ہے۔ہر ایک کام کرتے وقت اس بات کو مد نظر رکھنا چاہیے کہ یہ کام اس مقصد کے خلاف اور اس سے دور لے جانے والا تو نہیں جس کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں۔یہی خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کی معرفت حاصل کرنے کا راز اور گر ہے۔الفضل ۱۵ ستمبر ۱۹۲۱ء)