خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 66

۶۶ 16 احمدیت ہر طرف پھیل رہی ہے (فرموده ۲۴ ؍ جون ۱۹۲۱ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔قرآن شریف ایک ایسی بے نظیر اور اعلیٰ درجہ کی کتاب ہے کہ اس کا کوئی لفظ اور کوئی شعشہ حکمت سے خالی نہیں۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ فلاں لفظ قرآن کریم میں قافیہ یا وزن کے لئے آیا ہے۔لیکن یہ بات غلط ہے۔قرآن کریم میں جہاں کوئی لفظ آتا ہے۔وہاں ہی مناسب ہوتا ہے۔یہ ممکن ہے کہ کسی شخص کی سمجھ میں نہ آئے۔لیکن جس شخص کو سو میں سے ۹۵ یا ۶ یا ۹۷ باتیں علیٰ قدر مراتب سمجھ میں آجائیں یا جس کو خود سمجھ میں نہ آئے۔بلکہ سمجھنے والوں کو جانتا ہوں۔تو اس پر قیاس کرے کہ اگر میری سمجھ میں نہیں آیا تو میری غلطی ہے۔آیات کے آخر میں جو لفظ آتے ہیں آیا وہ قافیہ کے لئے ہیں یا حکمت کے لئے۔اس کا جواب اگر خود نہیں دے سکتا۔تو وہ ان لوگوں کے علم کی بنا پر تسلی کر سکتا ہے جو اس بات کو جانتے ہیں۔اگر کوئی شخص میں مقامات سے واقف ہے۔تو وہ تمیں مقام کے واقف سے تسلی کر سکتا ہے۔اور تمین کا واقف چالیس مقامات کے واقف سے اطمینان حاصل کر سکتا ہے۔پس یہ حقیقت ہے کہ قرآن کریم میں قافیہ بندی نہیں بلکہ ہر لفظ اپنے اندر حکمت رکھتا ہے۔دنیا میں بہت تمہیدیں ہوا کرتی ہیں۔جن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ان کے بعد لوگ اپنا مضمون بیان کیا کرتے ہیں۔مگر آج یہی مناسب ہے کہ میں تمہید باندھوں۔اور چھوڑوں۔ہر شخص خود غور کرے اور اس علم کی بناء پر غور کرے جو اس کو خدا نے سورہ فاتحہ کے متعلق دیا ہے۔اور ان قربانیوں کے لئے تیار ہو جائے۔جن کے لئے مسیح موعود کے وقت میں بلایا گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص سورہ فاتحہ پر یوں غور کرے گا کہ اگر قرآن میں کوئی لفظ قافیہ بندی کے لئے نہیں ہے تو کیوں ہے۔اور اگر اس نکتہ کو مد نظر رکھ کر سورہ فاتحہ کو پڑھے گا تو آئندہ زمانے کے حالات کا اس پر انکشاف ہو گا۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔رسول