خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 67

کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک رؤیا ہے کہ آپ نے دجال اور مسیح کو کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا۔بعض دفعہ صرف مسیح کو اور بعض دفعہ صرف حواریوں کو پھر یہ بھی دیکھا کہ دجال کا طواف خانہ کعبہ کے ارد گرد تھا اور مسیح کا اندرا میں سمجھتا ہوں کہ وہ یہی زمانہ ہے جس کا یہ نقشہ تھا۔عجیب بات ہے کہ اس زمانہ میں یہ سوال پیدا ہوا کہ عیسائیت حجاز میں اپنا تصرف جمانا چاہتی ہے جو کہ اب تک عیسائیت کے قبضہ سے باہر تھا۔لوگ کہتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ اس کو بہتر جانتا ہے کہ عیسائی مشنری اور حکومت اس علاقہ میں تصرف کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔اگر چہ وہ لوگ منکر ہیں جن کی طرف منسوب کیا جاتا ہے مگر مسلمانوں میں یہی مشہور ہے۔اور اس کے کسی قدر آثار بھی ہیں۔لیکن خواہ یہ بات کچی ہو یا غلط۔اتنی بات ضروری کچی ہے کہ حجاز کا ارد گرد عیسائیت کے اثر سے گھرا ہوا ہے۔یمن۔بصرہ۔بغداد فلسطین وغیرہ کے علاقے غرض چاروں طرف سے کعبہ کا طواف عیسائیت کر رہی ہے۔اس سے پہلے وہاں اس کا اتنا اثر نہ تھا۔ابھی پچھلے دنوں ایک خط مکہ سے ملا ہے۔جس سے اس پیشگوئی کا مقصد واضح ہوتا ہے۔مولوی میر محمد سعید صاحب کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ امسال حج کے لئے جائیں۔ان کی مدت سے خواہش تھی کہ عرب میں تبلیغ ہو۔اب وہ بڑھاپے کے باوجود وہاں گئے ہیں۔وہ اپنے اس خط میں اطلاع دیتے ہیں کہ مکہ میں ۱۳ مخصوں نے بیعت کی ہے اور پچاس کے قریب بیعت کے لئے تیار ہیں۔عرب میں احمدیت کی تبلیغ کا اس وقت شروع ہوتا جبکہ عیسائیت کے متعلق آثار میں ہے کہ وہ حجاز کا احاطہ کر لے گی۔اور خدا کو چھوڑنے والے اور مسیح کے جھوٹے مسیحی قبضہ کرلیں گے۔بتاتا ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ اپنے بچے صحیح کو وہاں قبضہ دے گا۔اس مسیح کو جس کا آنا اسلام کی حفاظت کے لئے ضروری تھا۔چونکہ ان دونوں باتوں نے ہونا تھا۔اس لئے دکھایا گیا کہ ایک ہی وقت طواف کر رہے ہیں مگر ان دونوں کے طواف کرنے میں فرق ہے۔مسیح دجال کا طواف باہر ہے اور مسیح کا اندر۔اس لئے کہ جب وہ چکر لگاتا لگاتا اس کے اندر دیکھے تو اس کو نظر آئے کہ گھر محفوظ ہے۔یہ بات یقینی ہے کہ احمدیت کے مقابلہ میں عیسائیت نہیں ٹھہر سکتی۔آج تلوار سے نہیں دلائل سے مذہب چلتا ہے۔غیر احمدی خواہ کتنے ہی کمزور ہوں مگر تھوڑی بہت حکومت ان کی ہے جس پر انہیں ناز ہے۔مگر ہمارے پاس کوئی بڑی حکومت تو کیا ایک ریاست بھی نہیں۔باوجود اس کے عیسائیت کے پیرو خواہ کسی بڑی سے بڑی حکومت و بادشاہت اور پارلیمنٹ کے پادری ہوں۔ہم کو ان پر فضیلت ہے کیونکہ قلوب کے فتح کرنے کے لئے جنگی بیڑے کی ضرورت نہیں نہ اسکے لئے تو ہیں کام آسکتی ہیں نہ دماغ پر تصرف کرنے کے لئے جنگی رسالے کام آسکتے ہیں۔یہ تو حق و صداقت ہے