خطبات محمود (جلد 7) — Page 63
15 افریقہ میں دس ہزار احمدی (فرموده ۱۷ جون ۱۹۲۱ء) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا۔خطبہ جمعہ کے شروع کرنے سے پہلے ایک اور بات جو ضمنا" پیدا ہوئی ہے بتاتا ہوں کہ کئی کام جو انسان کر سکتا ہے مصلحت سے ترک کر دیتا ہے۔ابھی ایک صاحب نے مصافحہ کرنا چاہا۔ایک مصافحہ میں مجھے تکلیف نہیں مگر میں نے انکار کر دیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جنہوں نے مصافحہ نہ کرنے کے حکم کی فرمانبرداری کی وہ محروم نہ رہیں۔اور دوسرے کامیاب نہ ہوں۔میں نے پہلی دفعہ کل شام کھڑے ہو کر نماز پڑھائی ورنہ بیٹھ کر نماز پڑھتا تھا۔لاہور میں ڈاکٹر نے تجویز کیا تھا کہ اپریشن کیا جائے مگر بوجہ کمزوری کے کسی اور وقت پر ملتوی کر دیا۔مجھ سے زیادہ کھڑا نہیں ہوا جاتا۔نماز کے بعد میں ممبر پر بیٹھوں گا احباب مصافحہ کرلیں۔اس کے بعد میں مختصرا" بعض باتیں کہتا ہوں۔شائد میری حالت کے لحاظ سے مناسب ہو تا کہ کوئی اور دوست خطبہ پڑھائیں۔لیکن چونکہ پہلے بھی ایک خطبہ رہ چکا ہے اور اب ڈاکٹر کے مشورہ سے مجھے باہر جاتا ہے۔اس لئے خود بیان کرتا ہوں۔پہلی بات یہ ہے۔کہ دنیا میں باتوں سے کام نہیں ہوتے۔بلکہ کام کام کرنے سے اور مستقل کام اور بار بار کی توجہ سے کامیابی ہوتی ہے۔تم اپنے نفس کو دیکھو اور اپنی روح کی حالت پر غور کرو۔کہ تم میں کتنا اخلاص اور کس قدر قربانی کا جوش ہے اگر ہے تو آگے بڑھنے کے لئے کس قدر کھلا رستہ ہے۔اور اس کے لئے کتنی تڑپ ہے۔جب تک یہ بات ہر فرد کے دل میں شیخ کی طرح نہ گڑ جائے گی۔اور ہر ایک شخص یہ محسوس نہیں کرے گا۔کہ تمام اسلامی ترقیات کا مظہروہی ہے تب تک کبھی وہ مقصد حاصل نہیں کر سکتا جس کے لئے ہماری جماعت پیدا ہوئی ہے۔دوسری نصیحت میری یہ ہے۔کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے لوگوں کو اس سلسلہ میں جوق در جوق لا رہا ہے۔مگر ان کے آنے سے ہماری ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں۔کسی مدرسہ کو اس بات پر خوش