خطبات محمود (جلد 7) — Page 64
۶۴ ہونے کا حق نہیں کہ اس میں ہزار طالب علم آیا مگر وہ اس کی تعلیم کا انتظام نہ کر سکا اسی طرح اگر ہمارے سلسلہ میں لاکھوں اور کروڑوں لوگ داخل ہوں لیکن ہم ان کی تربیت نہ کر سکیں اور ان کی اسلامی تعلیم کے مطابق تعلیم و تربیت نہ کر سکیں اور انہیں اسلامی اخلاق نہ سکھا سکیں تو ان کا آنا فضول اور ہمارا خوش ہونا فضول ہو گا۔اس حال میں ہمارے فخر کی مثال ایسی ہوگی۔کہ گھر میں مہمان آئیں۔لیکن ان کو کھانا کھلانے کا سامان نہ ہو رشتہ داروں کا آنا خوشی کی بات ہے۔مگر یہ شرم اور رونے کا مقام ہوتا ہے کہ ان کو کھانا نہ کھلایا جا سکے۔بعینہ اس سلسلہ کی مثال بھی یہی ہے کہ لوگ اس سلسلہ میں آئیں مگر ہم ان کے سامنے روحانی دستر خوان نہ بچھا سکیں۔یا ان کے لئے وہ سلوک روا رکھیں جو دستر خوان پر بیٹھے ہوئے شخص جانوروں سے کرتے ہیں۔کہ جو بچ گیا وہ ان کو ڈال دیا۔اس کے لئے پہلی ضرورت ہے کہ اپنی تربیت کریں۔اور دوسری یہ کہ مرکز کے قریب اصلاح کریں۔مسیحت کی تباہی کا یہی باعث ہوا۔کہ یوروشلم خالی تھا۔مگر اناطولیہ اور روما وغیرہ علاقوں میں عیسائیت قائم ہو گئی اس کے مقابلہ میں اسلام کا عروج اس طرح ہوا۔کہ مرکز پہلے مضبوط ہوا۔جب لاکھوں عرب مسلمان ہو گئے۔پھر دیگر علاقوں میں اسلام پھیلا۔اگر ہماری حالت مسیحیت کے مشابہ ہوئی تو ہمارے لئے خطرہ ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ مرکز کو مضبوط اور اس کے ارد گرد کے علاقہ میں اپنی اشاعت کریں۔اس کے بعد ایک خوش خبری سناتا ہوں۔جو آج ہی تار کے ذریعہ آتی ہے۔ماسٹر عبدالرحیم صاحب دورہ کرتے ہوئے لیگوس کے علاقہ میں پہنچے۔یہاں پہلے سے ایک سو کے قریب آدمی احمدی تھے۔یہاں کے لوگ مختلف فرقوں میں منقسم تھے۔اور ان میں احمدیت کی طرف توجہ پائی جاتی تھی۔جماعت کے تعلقات کا بھی اثر تھا۔ان کی خواہش تھی کہ وہاں احمدی مبلغ جائے۔یہاں کے دس ہزار آدمی سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔جس کے متعلق ماسٹر صاحب کی طرف سے آج تار موصول ہوا ہے۔یہ خوشی کی بات ہے۔ہم اس سے خوش ہیں۔اور جیسا کہ قرآن کریم نے سکھایا ہے۔کہ فسبح بحمد ربك (النصر : (۴) ہم اللہ کی تسبیح کرتے ہیں۔یہ اللہ کی مہربانی اور خاص فضل ہے۔جو وہ ہماری کوشش کے بغیر کر رہا ہے۔لیکن اس سے ہمارے فرائض میں زیادتی ہو گئی ہے۔ہمارا فرض ہے۔کہ ان کی تعلیم و تربیت کریں۔ورنہ جس طرح وہ لوگ وحشی کہلاتے تھے۔اب احمدی وحشی کہلائیں گے۔لاکھوں انسان سلسلہ میں داخل ہونگے۔لیکن ان کی تربیت کے لئے بھی لاکھوں مبلغوں کی ضرورت ہے۔اس پر توجہ کرو۔اور سستی ترک کرو۔اور اپنے ارد گرد کے علاقوں کو فتح کرنے کی پوری کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہو۔جب نماز ختم ہو چکی تو حضور نے اعلان فرمایا۔کہ منشی تاج الدین صاحب لاہور جو حضرت