خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 38

متعلق کہے کہ وہ فوت ہو گئے۔اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ ایک حقیقت کا اقرار کرتا ہے لیکن اگر کوئی حضرت مسیح کے متعلق کہدے کہ وہ فوت ہو گیا تو ان کے منہ میں غصہ سے جھاگ آجاتی ہے۔اور وہ جس بات میں رسول کریم کی ہتک نہیں۔خیال کرتے ہیں کہ مسیح کی ہتک ہو گئی۔پس اب سوال ہوتا ہے۔کہ آنے والے مسیح کا انکار کرنا خدا کے نزدیک بڑی ہی بری بات ہوگی جس سے بچنے کے لئے تیرہ سو سال سے دعا کی جا رہی ہے۔اور اس کا ماننا بہت ہی بڑے اہتمام کا موجب ہوگا۔پس یہ زور دینا اور اہمیت دینا بتلاتا ہے۔کہ یہ خاص ہی بات ہے۔اور بڑی ہی اہم ہے اگر کوئی خاص بات نہ ہو تو یہ زور دینا بے معنی ہو جاتا ہے۔اب میں اپنی جماعت سے پوچھتا ہوں کہ یہ دعا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کرتے تھے اور ابو بکڑ بھی یہی دعا کرتے تھے۔عمر بھی مانگتے تھے۔عثمان و علی بھی مانگتے تھے۔اور دیگر مجددین امت بھی یہ دعا مانگتے تھے۔اور دیگر صلحاء امت بھی یہی دعا کرتے تھے۔اس دعا پر اتنا زور دینا کوئی خاص حکمت ضرور رکھتا ہو گا۔اگر یہ بات نہ ہو۔تو یہ دعا اکارت جاتی ہے۔اور یہ کوشش اور اہتمام لغو معلوم ہوتا ہے۔بے شک ہر ایک بات کے کئی پہلو ہوتے ہیں۔اور کسی امر کو کئی نقطہ نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔یہ سچ ہے کہ یہ بھی بڑی بات ہے کہ ایک شخص ایک خدا کے مامور کو ماننے والا ہے۔اور ایک اس کا ہے۔نہ مانے والے کافر کہلائیں گے اور ماننے والے مومن۔جیسا کہ میں نے پچھے خطبہ جمعہ میں بتایا تھا۔کہ جب مکہ فتح ہوا۔اور مال غنیمت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے نو مسلموں میں تقسیم کیا۔تو انصار میں سے بعض نوجوانوں کی زبان سے نکل گیا کہ تلواروں سے ہماری خون ٹپکتا رہا ہے۔مال لے گئے مکہ والے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے انصار کو طلب کیا اور ان سے پوچھا۔انہوں نے عرض کیا۔حضور بعض نادان نوجوانوں کی زبان سے نکلا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اے انصار بے شک تم یہ کہہ سکتے ہو۔کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اکیلا تھا مکہ والوں نے اس کو نکال دیا۔اور ہم نے اس کو جگہ دی اور فتح مند ہو کر مال اس نے مکہ والوں کو دیا۔اور ہمیں کچھ نہ دیا۔اور اے انصار دوسری طرف تم یہ بھی کہہ سکتے ہو۔کہ جب مکہ والے اونٹ لے گئے ہم خدا کے رسول کو لے کر اپنے گھروں میں لوٹے۔س۔پس کئی نقطہ نگاہ ہوتے ہیں۔ایک نقطہ نگاہ سے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا کا ایک مامور آیا دنیا نے اس کو نہ مانا لیکن چند لوگوں نے اس کو مانا۔اور دنیا کی مخالفت کو اپنے سر لیا اور ہر قسم کی گالیوں اور ذلتوں کو اس کے لئے برداشت کیا۔اس لئے ایسے شخص کے مومن ہونے میں کیا شک ہے۔اور اسی طرح ایک شخص خدا کی نعمت کو رد کرتا۔اور فضل کو ٹھکراتا ہے۔اور اس کے رحمت کے دروازے کو بند کرتا ہے۔وہ مومن کیسے