خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 37

۳۷ بیان فرمائی ہے۔اسی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔جبھی حضور نے خصوصاً اس بات کی تفریح فرمائی۔اب سوال ہوتا ہے کہ یہودی کیسے بنے ہیں۔خود لفظ یہودی تو برا نہیں۔اس کے دو معنی ہوتے ہیں۔اول یہودہ کی نسل سے ہونے کی وجہ سے یہودی کہلاتے ہیں اور یہ کوئی برا شخص نہ تھا۔بلکہ یہودہ وہ شخص تھا جس کے ساتھ وعدے تھے کہ اس کی نسل سے انبیاء آئیں گے۔پس یہ نسبت بری نہیں۔یہودہ حضرت ابراہیم کے پڑوتے ہوتے ہیں۔یہ بھی نہیں کہ وہ کوئی برے شخص ہوں۔بلکہ ان کی ذات سے وعدے تھے۔ابو جہل بھی حضرت ابراہیم کی نسل سے تھا۔مگر وہ بد عمل اور نالائق انسان تھا۔اس لئے باوجود نسل ابراہیم سے ہونے کے آج کوئی شخص ابو جہل کی اولاد سے کہلانے کو پسند نہیں کرتا بلکہ اس کو گالی خیال کرتا ہے۔دوسرے یہودی کے معنی ہدایت یافتہ کے ہوتے ہیں۔اور ہدایت یافتہ ہونا بھی برا نہیں۔اگر یہودی سے مراد وہ قوم کی جائے۔جنہوں نے حضرت موسیٰ کے ذریعہ خدا تعالیٰ کے انعام پائے۔یہ بھی بری بات نہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔کہ وعد الله الذين امنوا منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنهم فى الأرض كما استخلف الذين من قبلهم (النور : (۵۶) فرمایا کہ مومنین کو اور امت محمدیہ کو وہ انعامات ملیں گے۔جو یہودیوں نے پائے تھے۔پس ان میں سے کوئی بات بھی بری نہیں جس کی وجہ سے یہ کہا گیا ہو۔اس سے یہی مراد ہے۔کہ وہ یہودی جنہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں حضرت عیسی کا انکار و مخالفت کی ہم ایسے نہ ہوں۔اسی طرح عیسائی بھی برے نہ تھے قرآن کریم حواریوں کی تعریف کرتا اور مومنوں کو تاکید کرتا ہے کہ انکی پیروی کریں۔اگر چہ انجیل ان کے متعلق کہتی ہے کہ ضرورت کے وقت وہ مسیح سے الگ ہو گئے تھے۔مگر قرآن کریم ان کی تعریف کرتا ہے پس اس سے مراد وہ عیسائی ہیں جنہوں نے حضرت عیسی کے معاملہ میں غلو کیا۔اور ان کی طرف دو صفات منسوب کیں۔جو خدا سے مختص ہیں۔مثلاً پیدا کرنا۔زندہ کرنا۔پس انہی عیسائیوں جیسے بنے سے بچنے کے لئے دعا سکھائی گئی ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ ہمارے زمانہ میں بھی ایک میسج آیا۔جنہوں نے اس کا انکار کیا وہ غضب الہی کے مستحق ٹھرے۔اور اسی طرح جنہوں نے مسلمانوں میں سے مسیح ناصری کی شان میں غلو کیا۔اور اس کو زندہ آسمان پر چڑھایا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تجویز کیا کہ وہ مر گئے اور زمین کے نیچے مدفون ہیں اور وہ خوش ہوتے ہیں اگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے