خطبات محمود (جلد 7) — Page 405
لروم 75 دعوت و اشاعت کا موزوں طریق (فرموده ۱۰ نومبر ۱۹۲۲ء) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ چونکہ میرے گلے میں تکلیف ہے اس لئے میں اختصار سے دو ضروری ہدایتوں کی طرف قادیان کی جماعت کے لوگوں اور بیرونی جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں۔ تبلیغ کا کام ہماری جماعت کے فرائض میں سے ہے اور میں نے بارہا بیان کیا ہے اور یہ بھی بارہا بتایا جا چکا ہے کہ کسی کام کی خوبی خواہ کسی حد تک ترقی کیوں نہ کر گئی ہو۔ اس وقت تک دل نشین نہیں ہو سکتی۔ جب تک اس کے پیش کرنے کا طریق دلچسپ نہ ہو۔ پھر کوئی بات صرف دلچسپ طریق سے پیش کرنے پر بھی دل میں نہیں بیٹھ سکتی۔ کوئی بات صرف سے پیش پر دل میں نہیں بیٹھ سکے جب تک ان طریقوں کو نہ استعمال کیا جائے جن سے کسی کو ہم خیال بنایا جاتا ہے لیکن جماعت میں بہت سے لوگ ہیں جو تبلیغ کرتے ہیں۔ مگر اس میں ایسی غلطی کر جاتے ہیں اور ایسے اہم امور کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ جن کی وجہ سے وہ نتیجہ نہیں نکلتا جو نکلنا چاہئیے۔ اور وہ برکات حاصل نہیں ہوتی جو ہونی چاہئیں۔ آج میں ان دو نقصوں کی طرف جماعت کو توجہ دلاتا ہوں جن کی وجہ سے جماعت کی کوششیں اعلیٰ نتائج پیدا نہیں کر رہیں۔ اور جماعت کافی ترقی نہیں کر رہی وہ نقص یہ ہیں۔ مبلغ کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ جس طرح اعلیٰ درجہ کی چیز کو اعلیٰ طریق پر پیش کرے اس طرح اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تبلیغ کے عرصہ اور زمانہ کی حد بندی کرے۔ وہ چیز جو چھ مہینے میں ہو سکتی ہے۔ اس کے متعلق یہ خیال نہ کرے کہ ایک ہی مہینہ میں ہو جائے۔ اور جو کام ایک مہینہ میں ہو سکتا ہے اس کو چھ مہینہ پر مت ڈالے۔ کیونکہ اس طرح طاقتوں کا نقصان ہوتا ہے۔ تو زمانہ کا اثر کام پر بہت ہوتا ہے۔ اگر ایک تجربہ کار ڈاکٹر پیٹ کا آپریشن کرے جو دس پندرہ