خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 402

ه نهم حقارت کرنے لگتے ہیں۔جب وہ کسی مجلس میں جاتا ہے۔تو شریر لوگ اس کی بے عزتی کرتے اور اس کو دکھ پہنچاتے ہیں۔ایسی حالت میں یہ طبیعی نتیجہ ہوتا ہے۔کہ ایسا شخص ایسی مجالس اور اس قسم کے لوگوں سے ملنا جلنا ترک کر دیتا ہے۔جو اس کو دکھ دیتے اور اس کی تحقیر و تذلیل کرتے ہیں۔لیکن جس طرح پہلی طبیعی بات پر ہر جگہ پر عمل کرنا درست نہیں۔اسی طرح یہاں بھی درست نہیں۔خدا تعالٰی نے نئی چیز سے جو طبیعی جھجک رکھی ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ انسان ہر نئی چیز کو چھوڑ دے۔بلکہ یہ ہے کہ ہر چیز کو اختیار نہ کرے اور جو چیز اختیار کرنے کے قابل ہو اس کو اختیار کرے۔اسی طرح جو شخص شریروں کی شرارتیں دیکھ کر ان سے مجتنب ہوتا ہے وہ بھی اچھا نہیں کرتا کیونکہ اس سے تبلیغ کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔اور ہر قسم کے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ایسا شخص بھی اس طبعی حالت کا غلط استعمال کرتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں یہ مادہ پیدا ہو گیا ہے۔غیروں کی مجالس میں جانے سے جھجکنے لگ گئی ہے۔اور ان سے مدنیت جاتی رہی ہے اور یہ کہ دوسروں کو اپنی طرف کھینچ سکیں اس مادہ میں بھی کمی آگئی ہے۔یا زیادہ نہیں رہا۔اور وہ حالت جو اس سے پہلے سالوں میں تھی وہ اب نہیں رہی۔اور اس طرح ملنا جلنا ترک ہونے سے جماعت کے رعب میں بھی فرق آگیا ہے۔قاعدہ ہے کہ آنکھوں کا جو اثر ہوتا وہ دور کی باتوں کا نہیں ہوتا۔کوئی شخص کتنا ہی شریر اور مخالف ہو۔جب اس کے سامنے انسان چلا جائے تو اس کی شرارت میں کمی آجاتی ہے۔یا کم از کم اس کی آنکھوں میں حیا آہی جاتی ہے۔تمہارے متعلق مخالفین اس قسم کی ہزار خبریں پڑھیں کہ تم ممالک غیر میں کس طرح تبلیغ اسلام کرتے ہو۔اس کا ان پر اثر نہیں ہو سکتا۔جتنا اس کا اثر ہو سکتا ہے کہ تم ان سے ملو اور اپنی زبان سے ان کو حالات سناؤ۔آج کل جو یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ وہ شریر ہیں ان سے کیا ملنا ہے۔اس سے جماعت پر مظالم میں کمی نہیں آتی۔بلکہ اگر غیر لوگوں کو ہمارے لوگ ملیں اور تبلیغ کریں اور حالات سے آگاہ کریں تو محض میل ملاقات سے ہی حالات میں تغیر پیدا ہو سکتا ہے۔پس جو شخص ظلم کرتا ہے اس سے ہر حال میں علیحدگی دانائی نہیں بلکہ اس سے ملنا اور اس کو نصیحت کرنا ضروری ہے اور وہ اس کا مستحق ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ مفساری پیدا کرو۔اخلاق فاضلہ یہ نہیں ہیں کہ جو تم سے ملتا ہے تم اس سے نرمی کا سلوک کرو۔بلکہ اخلاق فاضلہ کا منشاء یہ ہے کہ تم لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے ملوں اور ان سے ہمدردی اور عمدہ برتاؤ کرو۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ غیر احمدیوں، سکھوں، عیسائیوں، ہندوؤں وغیرہ سب سے ملیں اور تعلقات پیدا کریں۔مگر یہاں ایک نکتہ اور بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے جس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے ایک گروہ ہلاک