خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 345

۳۴۵ کے فضل کے وارث ہو سکتے ہیں۔تم مت سمجھو کہ بغیر ان راستوں پر چلے جو کامیابی کے لئے مقدر ہیں تم کامیاب ہو جاؤ گے۔محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو نبیوں کے سردار ہیں۔اور ہمارے اس زمانہ کے معلم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اور خواہ کچھ بھی مرتبہ ہو تا ہم آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہی ہیں۔ان کی جماعت کو اللہ تعالیٰ مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ احسب الناس ان يتركوا ان يقولوا أمنا وهم لا يفتنون (العنكبوت (۳) کیا لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اس بات کے کہنے پر کہ ہم ایمان لے آئے چھوڑ دئے جائیں گے۔اور ان کی آزمائش نہ کی جائے گی۔انہوں نے تکلیف پر تکلیف اٹھائی۔اور دکھ پر دکھ برداشت کیا اور خدا کی راہ میں قتل ہوئے۔اور جب تک ان تکالیف کو برداشت نہیں کیا کامیاب نہیں ہوئے۔تم مت سمجھو کہ ان قربانیوں پر جو کرتے ہو۔تم کو ترقی حاصل ہوگی۔یاد رکھو کہ اگر قربانی نہیں تو کوئی ترقی نہیں۔ہماری یہ قربانیاں بڑی قربانیاں نہیں۔یہ تو خدا تعالیٰ نے ہماری کمزور حالت کو دیکھ کر ہم سے بڑی قربانیوں کو پیچھے ڈال دیا ہے۔جن میں سے ہمیں کامیابی سے پہلے گذرنا پڑے گا۔ان قربانیوں کے لئے نفسوں کو تیار کرو۔پھولوں کی سیج پر بیٹھ کر کوئی شخص خدا کو نہیں پاسکتا۔کانٹوں میں سے گزر کر نہیں بلکہ تلواروں کے سائے میں سے گزرنا ہو گا نازک بدنی چھوڑ دو۔آج کل ایسے لوگ بھی ہیں جو تھوڑی سی مالی قربانی پر گھبرا جاتے ہیں۔مگر اپنے دلوں کو تیار کرو کہ مال قربان کرنے پڑیں گے۔رشتہ داروں کو چھوڑنا پڑے گا۔اپنے نفسوں میں مضبوطی پیدا کرو کہ اگر خدا تمہارا امتحان لے تو تم اس امتحان میں کامیاب نکلو۔میرا یہ مطلب نہیں کہ تم ابتلا کی خواہش کرو کیونکہ اس سے منع کیا گیا ہے۔بلکہ میرا مطلب یہ ہے کہ تم یہ نیت کر لو کہ اگر کوئی ابتلاء آئے تو وہ تمہارے ایمان کے اندر مضبوطی پائے۔اور وہ مصیبت تمہارے ایمان کی عمارت کو ڈھانے والی نہ ہو۔پھر کامیابی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وحدت ہو۔یاد رکھو کہ ترقی کے لئے خیالات و عقائد کے ساتھ عملی وحدت ہو۔تم میں بعض ایسے بھی ہیں جو روپیہ کے معاملہ میں۔زمین کے معاملہ میں جھگڑتے ہیں حالانکہ اتحاد کے قیام کے لئے حقوق کا قربان کرنا ضروری ہوتا ہے۔جب حضرت معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کو اپنا ولی عہد مقرر کیا۔تو اس مجلس میں حضرت عبداللہ بن عمر بھی بیٹھے تھے۔حضرت معاویہ کا یہ فعل درست نہ تھا۔کیونکہ اسلام میں حکومت میں وراثت نہیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ باپ اپنے بیٹے کو مقرر کرے۔بلکہ یہ اختیار اور حق مسلمانوں کا ہے کہ وہ جس کو چاہیں انتخاب کریں۔کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی اولاد کو ورثہ کے طور پر بادشاہت دے جائے۔معاویہ نے کہا کہ کوئی ہے جو میرے بیٹے سے زیادہ مستحق ہو۔حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے اپنا کپڑا جو بیٹھنے کے لئے اپنی ٹانگوں کے گرد ڈالا تھا کھولا اور بات کرنے کے لئے آمادہ ہو