خطبات محمود (جلد 7) — Page 338
۳۳۸ ا کر کہ جب مرنے لگے تو دنیا تم پر روئے کہ اب کیا ہو گا مگر تو نہیں رہا ہو کہ خدا خدا کے کے پاس پاس جا جا رہا رہا ۔ ہوں۔ حیات کی علامت یہی ہے کہ کام کرنے والی چی اپنی جگہ سے ہل جائے تو نقص پیدا ہو جاتا ہے۔ مثلاً یہ ستون ہے (مسجد اقصیٰ کے برآمدے کا ایک ستون) جو کام دے رہا ہے۔ اس کے ساتھ اگر ایک اور لکڑی کھڑی کر دی جائے تو وہ بھی کھڑی تو نظر آئے گی۔ لیکن اگر اسے ہٹا دیا جائے۔ تو کوئی نقص نہیں واقع ہوگا اور اگر اس ستون کو ہٹایا جائے تو نقص پیدا ہو جائے گا۔ تو کام کرنے والے کی یہ علامت ہوتی ہے کہ اگر اسے ہٹا دیا جائے تو نقص پیدا ہو جائے۔ جب تک نیا آدمی اس کام کو سنبھال نہ لے۔ یہ قوت فعلیہ ہوتی ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ خدا کی طرف سے مدد آجائے۔ چونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے فاحببناه ہم نے اس کو زندہ کیا۔ اس لئے اسے مدد بھی وہ خود ہی دیتا ہے۔ خواہ ساری دنیا مخالف ہو وہ اپنا رستہ پالیتا ہے کیونکہ اس کے پاس خدا کی دی ہوئی روشنی ہوتی ہے یا ساری دنیا ڈوب رہی ہو وہ اس شمع کی روشنی سے محفوظ ہوتا ہے۔ اور دوسروں کو محفوظ کرتا ہے۔ جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔ یہ روشنی ہر مومن میں حسب مراتب ہوتی ہے۔ روشنی ہر مومن دیکھو آم کے لئے جس طرح گٹھلی۔ رس اور چھلکا ہونا ضروری ہے اسی طرح ایمان کے لئے ان تینوں باتوں کی ضرورت ہے۔ آگے جس طرح بڑے آم کا بڑا چھلکا۔ زیادہ رس اور بڑی گٹھلی ہوتی ہے۔ اسی طرح جس میں زیادہ ایمان ہو گا یہ باتیں بھی زیادہ پائی جائیں گی۔ لیکن ایمان کے لئے ہوئی ضروری ہیں کہ خدا سے تعلق بڑھ رہا ہو۔ کچھ نہ کچھ کام کا سہارا اس پر ہو۔ خدا کی تائید خواہ تھوڑی ہی ہو۔ مگر ہو ضرور۔ زیادہ روشنی اچھی ہوتی ہے۔ لیکن تھوڑی بھی کام دے دیتی ہے۔ پس یہ تینوں علامتیں خواہ تھوڑی ہوں مگر ہونی چاہیں۔ میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ دیکھیں کیا یہ ان میں پائی جاتی ہیں یا نہیں۔ اگر کسی میں نہیں تو سمجھے کہ وہ کفر کے زیادہ قریب ہے یہ نسبت ایمان کے۔ اور اگر پائی جاتی ہیں تو ان میں اور ترقی کرے۔ خدا تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ایمان کی یہ علامتیں پیدا کریں۔ اپنا نور اور روشنی دے جس سے ہم فائدہ اٹھائیں۔ الفضل ۳ اگست ۱۹۳۲ء)۔ ا مجانی الادب بحواله دروس الادب ص ۹۰