خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 337

۳۳۷ لوگوں کی مدد کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے سامان پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ لوگوں کو ظلمت سے نکال کر نور کی طرف لا سکتا ہے۔اس کو ایسا دماغ مل جاتا ہے کہ باریک سے باریک اور منفی سے مخفی باتیں اس پر کھلتی جاتی ہیں۔کوئی معمہ نہیں ہوتا۔جسے وہ حل نہ کر لے۔اور کوئی مشکل نہیں ہوتی جو اسے ہراساں کردے۔کیونکہ خدا کی طرف سے اسے نور ملتا ہے۔پھر نور کو لیکر الگ تھلگ نہیں بیٹھ رہتا بلکہ ہمشی یہ فی الناس اس کو لیکر لوگوں میں چلتا پھرتا ہے تو یہ تین باتیں مومن میں پیدا ہو جاتی ہیں۔اول یہ کہ وہ ترقی کرتا ہے۔دوم یہ کہ لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔سوم یہ کہ خدا کی طرف سے اسے ایسے سامان دیئے جاتے ہیں کہ جو اس کی مدد کرتے ہیں۔جب کوئی کام کرنے لگتا ہے تو فوراً خدا کی طرف سے مدد پہنچتی ہے۔اگر یہ باتیں کسی میں پائی جاتی ہیں۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اس میں ایمان ہے۔اور اگر نہیں پائی جاتیں تو ایمان نہیں۔درمیانی کوئی رستہ ہی نہیں۔یا تو انسان مومن ہو گا یا کافر۔زندہ ہو گا یا مردہ۔ہاں جس طرح زندگی میں فرق ہوتا ہے کسی کی اعلیٰ ہوتی ہے کسی کی ادنی۔اسی طرح کوئی اعلیٰ درجہ کا مومن ہوتا ہے کوئی ادنی درجہ کا۔کوئی بڑا کافر ہوتا ہے کوئی چھوٹا۔جس طرح مردوں میں بھی فرق ہوتا ہے کوئی تازہ مرا ہوتا ہے کوئی دیر کا۔اب میں دوستوں سے سوال کرتا ہوں کہ یہ جو علامتیں ہیں اور جن کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ ان کا فقدان کفر ہے۔یہ ان میں پائی جاتی ہیں یا نہیں۔یعنی اول یہ ہے کہ ان میں نمو اور ترقی کی طاقت ہے؟ اور ان کا قدم آگے بڑھتا ہے؟ دوسرے وہ مردہ کی طرح تو نہیں پڑے رہتے۔بلکہ دنیا میں کام کرنے والے ہیں۔یہ علامت معلوم کرنے کے لئے اس بات پر غور کرو کہ تم واقع میں ایسے ہو۔کچھ کچھ کام کرتے ہو یا ایسے ہو کہ مرجاؤ۔تو کسی کو تمہارا خیال بھی نہ ہو۔ایک شاعر نے دنیا میں مفید زندگی بسر کرنے کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے ہے۔انت الذي ولدتک ایک باکماً والناس حولك يضحكون سروراً فاحرص على عمل تكون اذا بكوا في وقت موتک ضاحکا مسروراً کہ جب تو پیدا ہوا تھا۔ماں نے تجھے جنا تھا۔تو تو رو رہا تھا بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو چونکہ تنگ جگہ سے نکلتا ہے اس کے سر اور جسم پر دباؤ پڑتا ہے اس لئے روتا ہے۔شاعر کہتا ہے تو وہ تھا کہ جب پیدا ہوا تھا تو رو رہا تھا۔اور لوگ اس موقع پر ہنس رہے تھے کہ لڑکا پیدا ہو گیا۔ایسی حالت میں تیری پیدائش ہوئی تھی۔اب تو ایسے عمل کر کہ جب تو مر رہا ہو تو خوش ہو کہ خدا سے ملنے چلا ہوں اور لوگ رو رہے ہوں کہ اس سے جو فوائد پہنچ رہے تھے ان سے محروم ہو گئے۔یہ تیرا بدلہ ہے۔جب تو پیدا ہوا تھا تو روتا تھا اور لوگ ہنستے تھے۔اب ان سے بدلہ لے اور وہ اس طرح کہ ایسے اچھے عمل