خطبات محمود (جلد 7) — Page 335
۳۳۵ کونین کی شکل ایک سی ہوتی ہے اس لئے سنکھیا دے دیتا۔اور کتے کو مارنے کی ضرورت ہوتی تو کو نین دے دیتا۔رو لیکن یہ علامتیں ہی ہیں جن سے ایک دوسری چیز میں امتیاز کیا جاتا ہے۔اور ایسا امتیاز کہ کوئی چیزیں ایک سی نہیں ہو سکتیں۔باپ بیٹے میں بڑا تعلق ہوتا ہے۔مگر وہ بھی الگ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ماں بیٹی میں بھی فرق ہوتا ہے۔بڑی بڑی شکلیں ملتی ہیں۔مگر جن کی شکلیں حد سے زیادہ ملتی ہیں ان میں بھی فرق ہوتا ہے۔پس بات یہ ہے کہ کوئی چیز علامت کے بغیر نہیں۔جب یہ بات ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو سب سے قیمتی چیز ہے یعنی ایمان۔کیا وہی بے علامت ہے؟ خربوزہ کو دل چاہتا ہے تو انسان جاتا ہے اور پہچان لیتا ہے۔گندم خریدنا چاہتا ہے تو جاتا ہے اور پہچان لیتا ہے۔یہ نہیں کہ چنے اور گندم کی شکل ایک جیسی ہو۔گندم اور چنے میں امتیاز نہ کر سکتا ہو۔اسی طرح ماش خریدنا چاہتا ہے تو جاتا ہے اور پہچان لیتا ہے۔یہ نہیں کہ ماش اور چنے کی شکل ایک جیسی ہو۔اب جبکہ خدا نے گہیوں ، جو اپنے آم خربوزہ کے پہچانے کے لئے علامتیں رکھی ہیں۔آدمیوں کے لئے علامتیں رکھی ہیں۔تو کیا اگر نہیں رکھیں تو ایمان کے لئے ہی نہیں رکھیں جو سب سے زیادہ ضروری اور قیمتی چیز تھی۔کبھی عقل اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ خدا نے ہر چیز کی علامت رکھی ہو مگر ایمان کے لئے کوئی علامت نہ رکھی ہو۔در حقیقت انسان کا ذہن اس بات کو سوچ ہی نہیں سکتا۔اور اس کا دماغ اس بات کو برداشت ہی نہیں کر سکتا۔کہ ایسا ہو سکے۔کجا یہ کہ ایسا ہو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اومن كان ميتا فأحييناه وجعلنا له نورا يمشي به في الناس كمن مثله في الظلمت ليس بخارج منها كنالك زين للكفرين ما كانوا يعملون (الانعام (۱۲۳) فرمایا کوئی عقل کی بات کرو۔کوئی انسان اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ ایک شخص جس میں ایمان ہو اور ایک جس میں کفر۔ان کی ایک جیسی شکلیں ہوں اور ان میں کوئی فرق نہ ہو۔موٹی موٹی چیزوں میں تو فرق ہو۔اور ان کو پہچاننے کی علامتیں ہوں۔لیکن جو اعلیٰ سے اعلیٰ ہے۔اس کی شناخت کا ذریعہ نہ ہو۔اگر اس کی شناخت نہ ہو سکے گی تو کوئی اسے حاصل کس طرح کرے گا۔اب گیہوں کی ضرورت ہے تو چونکہ اسے پہچانتے ہیں اس لئے لے آتے ہیں۔لیکن اگر گیہوں کو نہ پہچانتے تو پھر کس طرح لیتے۔دنیا کی ساری چیزیں خریدتے تب کہیں گیہوں ملتی۔اسی طرح اگر ایمان کی شناخت کی کوئی علامت نہیں رکھی گئی تو اس کے لئے انسان سارے مذہب قبول کرتا تب اسے ایمان کا پتہ ملتا۔کبھی وہ عیسائی ہوتا۔اس میں ایمان نہ ملتا تو جینی بنتا۔پھر بدھ بنتا۔اسی طرح ہزاروں لاکھوں جو مذہب ہیں انہیں اختیار کرتا۔انہیں چکھتا۔جیسے بہت سے شربت پڑے ہوں مگر ان کی خوشبو اڑ گئی ہو تو ہر ایک کو چکھ کر کوئی ایک شربت معلوم کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح وہ