خطبات محمود (جلد 7) — Page 334
۳۳ گورے ایک سے گورے۔نہ سارے زرد ایک سے زرد ہوتے ہیں نہ سارے سرخ ایک سے سرخ ہوتے ہیں۔ان میں باریک فرق بھی ہوتے ہیں۔اور کھلے فرق بھی۔لیکن بہرحال ایک رنگ کے دو انسان نہیں ہوتے کچھ نہ کچھ فرق ان کے رنگوں میں ضرور ہوتا ہے۔تو رنگ بھی علامتیں ہیں جن سے پہچانا جاتا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں۔رنگوں سے اور طریق سے بھی پہچانا جاتا ہے۔اگر آدمی کا رنگ نہ پہچانا جا سکے تو اور بھی رنگ خدا نے بنائے ہیں۔جو پہچانے میں مدد دیتے ہیں۔یوں تو چھ سات ہی رنگ ہیں۔مثلاً کالا، نسواری، زرد، سبز، سفید، سرخ وغیرہ جو مرد استعمال کرتے ہیں۔عورتوں کے استعمال میں زیادہ رنگ آتے ہیں۔لیکن مردوں کے یہ چند رنگ ہیں۔مگر کروڑوں آدمی ہیں جن میں ان رنگوں کی وجہ سے امتیاز کیا جا سکتا ہے۔ان رنگوں میں سے کوئی ہلکا استعمال کرتا ہے۔کوئی زیادہ۔کسی کی پگڑی اور رنگ کی ہوتی ہے کسی کی قمیص اور رنگ کی۔کسی کا پاجامہ اور رنگ کا ہوتا ہے۔کسی کا کوٹ اور رنگ کا اور جتنے آدمی یہاں بیٹھے ہیں۔اگر انہی کو دیکھا جائے تو جو رنگ انہوں نے استعمال کئے ہیں۔وہ پانچ سات ہی ہونگے۔مگر پھر بھی ان میں فرق ہو گا۔اور اس سے ہر ایک الگ الگ پہچانا جا سکتا ہے پھر پہچاننے کی اور علامتیں ہیں مثلاً بیٹھنے، چلنے ، کھڑے ہونے کی طرز ہی ہوتی ہے کوئی شخص دور جا رہا ہو تو اس کی چال دیکھ کر معلوم کر لیا جاتا ہے کہ فلاں ہے۔پھر آوازوں میں فرق ہے غرض اتنے فرق ہیں۔جن کے ذریعہ انسانوں کو پہچانا جاتا ہے۔اور ان کے علاوہ ایسے معمولی معمولی فرق بھی ہیں کہ اگر پوچھو فلاں فلاں میں کیا فرق ہے۔تو اکثر آدمی نہیں بتلا سکیں گے۔لیکن ان کی آنکھیں، کان اور چھونے کی قوت جب عمل میں لائی جائے گی تو بتا دیں گے کہ ان میں فرق ہے یہ فلاں ہے اور یہ فلاں۔یہ تو میں نے بڑی چیزوں کے متعلق بتایا ہے۔چھوٹی چیزوں کے متعلق بھی دیکھ لو۔ان میں بھی فرق ہوتا ہے۔زمین دار دانوں کو دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ ان میں فرق ہے یہ اچھے ہیں اور یہ خراب۔سبزی فروش سبزی کو دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ یہ اچھی ہے اور یہ بری۔میوے والے میووں کو دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ یہ اچھے ہیں اور یہ برے۔تو نہ صرف اپنے متعلق بلکہ دوسری چیزوں کے متعلق بھی انسان فرق جانتا اور ان کو پہچان سکتا ہے۔ورنہ اگر آم اور خربوزے کی شکل مختلف نہ ہوتی تو جب ہم کو دل چاہتا انسان ساری دنیا کے میووں کو کھاتا تب آم کو معلوم کر سکتا۔مگر ہم کہتے ہیں مزا بھی تو ایک علامت ہے۔اگر یہ بھی سب میووں کا ایک سا ہوتا تو پھر کس طرح کوئی آم کو پہچان سکتا کہ یہ آم ہے۔اور کس طرح خربوزے کو معلوم کر سکتا کہ یہ خربوزہ ہے۔پھر ڈاکٹر کو پتہ نہ لگ سکتا کہ سنکھیا کیا ہے۔اور کونین کیا۔ایک کو تپ کی دوا کے طور پر کونین دینی ہے۔لیکن چونکہ سنکھیا اور