خطبات محمود (جلد 7) — Page 28
۲۸ 7 فتنوں کے دن اور دعاؤں کی ضرورت (فرموده ۱۴ مارچ ۱۹۲۱ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔مجھے ایک ضروری کام کے لئے لاہور جاتا ہے جہاں ایک مقدمہ میں شہادت طلب کی گئی ہے اللہ تعالی چاہے تو کل ہی اس سے فراغت ہو جائے گی۔ادھر نواب صاحب کے مالیر کوٹلہ سے خط آرہے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کو تبلیغ کی جائے اس لئے لاہور سے ہو کر وہاں دو تین روز کے لئے جاؤں گا۔میرے بعد قادیان کی جماعت کے امیر مولوی شیر علی صاحب ہیں۔وہ سب کام جو مقامی طور پر لوگ مجھ سے پوچھ کر کرتے ہیں۔ان سے پوچھیں۔اور باہر کے کام مجھ سے دریافت کئے جائیں۔اس کے بعد میں مختصر نصیحت کرتا ہوں کہ بعض ایام دعاؤں کی قبولیت کے ہوتے ہیں اور بعض دعاؤں کی ضرورت کے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایام دعاؤں کی ضرورت کے ہیں۔مجھے اس بارے میں کئی رویا ہوئی ہیں۔اور یہاں کے دوستوں کو بھی۔اور باہر کے دوستوں کو بھی ہوئی ہیں گو مجھے ان فتن کا انجام اچھا نظر آیا ہے مگر بعض دوستوں کی خواہیں صرف منذر ہیں۔اور مبشر رویا کو منذر پر فضیلت ہوتی ہے۔اللہ کی ذات غنی ہے بہت دفعہ ترقی آنے والی ہوتی ہے مگر لوگوں کی غفلت سے وہ ترقی منزل سے بدل جاتی ہے۔اور کامیابی ناکامی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔اس لئے میں دوستوں کو تاکید کرتا ہوں۔اور گو یہ مختصر بات ہے مگر اس کو مختصر نہ خیال کرو۔اور خصوصیت سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں کے لئے جھک جاؤ۔کتنے ہی فتنوں کا ذکر تاریخ کے صفحات میں موجود ہے۔مگر تاریخ بتاتی ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے ایک اشارے سے وہ فتنے مٹ گئے۔پس مصائب کی آمد سے مومن کو گھبرانا اور کرب میں مبتلا نہیں ہونا چاہئیے۔کیونکہ مومن مطمئن ہوتا ہے اور وہ ان ایام فتن میں خدا کے حضور روتا اور زاری کرتا اور انابت الی اللہ سے کام