خطبات محمود (جلد 7) — Page 332
نصرت نہیں ہوگی۔کیونکہ مدد اس کی ہوتی ہے جو اپنی مدد بھی کرے جو شخص اپنی مدد نہیں کرتا اس کی کوئی کیا مدد کرے۔جو شخص بزدلی دکھاتا ہے اس کا مددگار اس کے لئے کیا کر سکتا ہے۔فرمایا آپس کے تنازع کے یہ تین نتیجہ ہونگے۔پھر فرمایا۔واصبروا۔اور صبر کرو اگر کسی شخص نے کوئی ایسی بات کہی ہے جس سے تمہیں رنج پہنچا ہے۔یا تمہارا کوئی حق دبا لیا ہے تو تم صبر کرو اور جھگڑا نہ کرو۔یہ کہنا کہ ایسے موقع پر مبر کیسے کر سکتے ہیں۔غلطی ہے۔کیونکہ یہی تو موقع ہوتا ہے کہ صبر کیا جائے۔ورنہ کیا صبر کا یہ موقع ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے مکان کے قبائلے لا کر تمہارے سپرد کر دے یا تمہاری کوئی تعریف کرے اور تم کہو کہ ہم نے صبر کیا۔صبر کا موقع تو یہی ہے کہ دوسرے سے دکھ پہنچنے پر صبر کرے ورنہ تعریف سنکر یا فائدہ پہنچنے پر صبر کا کون سا موقع ہے۔اس کی مثال تو وہی ہوگی جو حضرت مسیح موعود لطیفہ سنایا کرتے تھے کہ کسی شخص نے کسی کی دعوت کی۔کھانے کے بعد قاعدہ کے مطابق میزبان نے کہا کہ گھر میں بیمار ہیں اس لئے میں آپ کی کچھ خدمت نہیں کر سکا۔مہمان کوئی بڑا ہی بد فطرت انسان تھا کہنے لگا مجھ پر احسان جتاتے ہو۔میں نے تو خود تم پر بڑا احسان کیا ہے میزبان نے کہا کہ آپ کا احسان ہو گا اگر آپ بتائیں تاکہ مجھے زیادہ شکر گذاری کا موقع ملے۔کہنے لگا تم جب اندر کھانا لینے گئے تھے اگر میں تمہارے گھر کو پھونک دیتا۔میزبان نے کہا کہ واقعی یہ آپ کا احسان ہے۔پس اگر کہو کہ آپس کی لڑائی میں صبر کیسے کریں۔تو یہ غلطی ہے۔کیونکہ اسی وقت صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے۔تو صبر کرو۔اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔یہ کہ ان اللہ مع الصابرین میر کرنے والا ہلاک نہیں ہوتا کیونکہ اللہ جس کے ساتھ ہو اس کو کیسے ہلاکت آئے۔اللہ تعالیٰ غیر فانی ہے۔وہ جس کے ساتھ ہو وہ بھی فنا نہیں ہو سکتا۔اگر تم گالی کے مقابلہ میں صبر کرتے ہو۔تو صبر ہے۔اگر کوئی نقصان پہنچاتا ہے۔اور تم اس کے مقابلہ میں زبانی نہیں بولتے۔تو یہ صبر ہے۔اگر عدالت سے چارہ جوئی کرتے ہو تو یہ صبر کے خلاف نہیں۔پس یاد رکھو کہ صابر کے لئے ہلاکت نہیں۔یہ احکام ہیں جن پر عمل کرنا تمہارے لئے بہتری کا موجب ہو گا۔تمہارا ساری دنیا سے مقابلہ ہے۔تمہارے لئے ثبات کی ضرورت ہے۔دعاؤں کی ضرورت ہے۔آپس میں تنازعات سے بچنے کی ضرورت ہے۔اگر رنج پہنچے تو صبر کی عادت کرو کہ تم کو اللہ تعالیٰ کی نصرت ملے۔جو آپس میں جھگڑا نہ کریں ان کی خدا مدد کرتا ہے۔اللہ تعالٰی آپ لوگوں کو عمل کرنے کی توفیق دے۔الفضل ۲۷ جولائی ۱۹۲۲ء) ام طبری بحوالہ سیرت خاتم النبین حصہ اول ص ۱۶۸