خطبات محمود (جلد 7) — Page 321
۳۲۱ بھی درجے ہیں۔ پہلا درجہ تو یہی ہوتا ہے کہ وہ آقا سے مانگتا ہے کہ مجھ کو یہ چیز دیجئے۔ اور وہ چیز دیجئے۔ اور پھر ترقی کرتا ہے تو اس کی نظر ان چیزوں پر نہیں پڑتی بلکہ خود آقا پر پڑتی ہے اور وہ آقا کا ہاتھ پکڑنا چاہتا ہے۔ وہ اور سب انعامات سے الگ ہو کر عرض کرتا ہے کہ میں تو آپ ہی کو مانگتا ہوں آپ مل جائیں۔ پھر قرب بھی کئی قسم کا ہوتا ہے پیر دبانے والے ملازم کو بھی قرب حاصل ہے مگر جو وزیر کو قرب حاصل ہے۔ وہ بہت اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے۔ پہلے اگر اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ مجھے آپ کا دیدار ہو۔ تو پھر وہ غیر المغضوب عليهم ولا الضالين کے مقام پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور اس وقت وہ یہ خواہش کرتا ہے کہ اگر آپ نے منہ دکھایا ہے۔ تو چھپائیے مت مل جائیے اور ہمیشہ کے لئے مل جائیے۔ تو اللہ تعالی نے اپنے حصول کا یہ ذریعہ بتایا ہے۔ یہ چیز ہے جس کے لئے مسلمان کوشش کرتا ہے۔ اور اس وقت اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ دست در کار و دل بایار جو لوگ دنیا کا کام دنیا کے لئے کرتے ہیں وہ پھسل جاتے ہیں دیندار دنیا دار اور دنیا دار دنیا دار میں فرق ہے۔ کہ پہلا دنیا کا کام کرتا ہوا بھی خدا سے غافل نہیں ہوتا۔ لیکن دنیا دار دنیا دار کے کام تمام کے تمام دنیا کے لئے ہوتے ہیں۔ اور وہ خدا کو بھولا ہوا ہوتا ہے۔ دیندار کسی کی امانت واپس کرتا ہے۔ تو کچھ اپنے پاس سے زائد دیتا ہے کہ کہیں اس کا حق میرے ذمہ نہ رہ گیا ہون۔ لیکن دنیا دار کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اس کا حق دبائے۔ دیندار دوسرے کے حق کو تو کیا دبانے کا خیال کرتا۔ اپنا حق بھی چھوڑنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن دنیا دار اپنا حق کہاں چھوڑتا ہے وہ تو دوسرے کے حق پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ بعض لوگ یہ بات زبان سے تو نہیں کہتے۔ کہ وہ دوسرے کا حق دبائیں۔ مگر ان کے نفس میں یہ خواہش ضرور ہوتی ہے لیکن مومن کا نفس ہر قسم کی خواہشوں سے پاک ہوتا ہے۔ جس شخص کی یہ حالت ہو کہ اس کو تسلی نہ ہو۔ اس کو خدا کا قرب حاصل نہیں۔ میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس بات کی کوشش کریں کہ ان کو خدا مل جائے محض رستہ کا ملنا کافی نہیں۔ اور اس کے لئے جھگڑا فضول ہے۔ ہاں اگر خدا مل جاتا ہے۔ تو پھر دوسروں سے جھگڑو اور ان کو وہ چیز دو جو ان کے پاس نہیں۔ راستہ ہمیں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بتا دیا۔ اور پھر جب وہ گم ہوا تو دوبارہ مسیح موعود نے دکھا دیا۔ اب اس کی ضرورت ہے کہ اس رستہ پر چل کر خدا کو حاصل کیا جائے ورنہ اس کے بغیر کوئی خوبی نہیں۔ الفضل ۱۳ جولائی ۱۹۲۲ء)