خطبات محمود (جلد 7) — Page 303
μιμω جاہل بھی محسوس کرتا ہے۔ اس لئے آدمی کو غور کرنا چاہئیے کہ جب تمام کاموں سے یہی مقصد ہے۔ لئے کہ اس کو راحت اور آرام حاصل ہو تو دیکھنا چاہئیے کہ وہ کونسی چیز ہے جو سب سے زیادہ انسان کو راحت پہنچا سکے۔ جب وہ غور کرے گا تو اس کو معلوم ہو گا کہ سب سے زیادہ جس چیز سے خوشی ہو سکتی ہے وہ ایمان ہے۔ ایمان یمن سے نکلا ہے جس کے معنی برکت کے ہیں۔ تو گویا ایمان ایک بابرکت، چیز ہے۔ اگر یہ حاصل ہو جائے تو راحت ہی راحت ہے۔ قرآن کریم نے سادگی سے اس نکتہ کو بیان کیا ہے۔ اور ایمان کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے۔ فرمایا بسم الله الرحمن الرحیم میں ہر ایک کام خدا تعالیٰ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے شروع کرتا نام سے ہوں۔ اور میں اس خدا پر ایمان لے آیا۔ اس کا لازمی نتیجہ کیا ہو گا۔ وہ کہے گا۔ الحمد للہ رب العالمین جب وہ خدا پر ایمان لاتا ہے تو اس کو اس سے کچی خوشی ہوتی ہے۔ انسان الحمد للہ اس وقت کہتا ہے جب اس کو راحت کا سامان ملتا ہے۔ جن لوگوں کو دین سے مس نہیں ہے وہ بھی خوشی کے وقت میں کہتے ہیں شکر ہے۔ شکر ہے۔ پس بسم اللہ کے بعد یعنی ایمان حاصل ہونے کے بعد مومن کی زبان پر الحمد لله رب العالمین کا کلمہ جاری ہوتا ہے۔ اور مومن کا آخری کلام بھی یہی ہوتا ہے۔ وآخر دعواهم ان الحمد لله رب العالمین یعنی ایمان کی ابتدا بھی خوشی سے ہوتی ہے اور انتہا بھی خوشی ہے۔ قرآن کریم کا طریق ہے کہ وہ دعوئی کے ساتھ دلیل دیتا ہے۔ اب سوال ہو سکتا ہے کہ مومن کیوں خوش ہوتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ وہ الحمد لله رب العالمین کہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں خوشیاں چار درجوں سے آتی ہیں۔ اگر ان میں نقص آجائے تو انسان خوشی سے محروم ہو جاتا ہے۔ پہلا درجہ یہ ہے کہ طبعی تقاضوں کے ماتحت بعض راحتیں آتی ہیں۔ بعض ایسی باریک ضروریات ہوتی ہیں جو اگر پوری نہ ہوں تو انسان کو راحت نہیں پہنچتی۔ اور وہ نا خوش ہوتا ہے۔ بعض چیزوں کے کھانے پینے کی خواہش ہوتی ہے ان کو کھاتا ہے تو آرام پاتا ہے۔ بعض کو سونگھتا ہے تو اس کو خوشی ملتی ہے۔ بعض وقت بیماری کے کیڑے اندر ہوتے ہیں۔ ان سے دکھ پاتا ہے اور پھر صحت کے کیڑے اندر آجاتے ہیں جن سے راحت پہنچ جاتی ہے اس تغیر کے باریک اسباب ہوتے ہیں۔ جو ظاہر میں معلوم نہیں ہوتے۔ ان سے راحت پہونچتی ہے یا دکھ۔ جس طرح راحت کے سامان مخفی ہیں اسی طرح اللہ تعالی کی ذات مخفی ہے مومن کہتا ہے الحمد للہ رب العالمین میں خدا پر ایمان لایا سب تعریف تمام جہانوں کے رب کی ہے۔ وہ خدا جس پر میں ایمان لایا۔ اس کا ہر ایک باریک سے باریک چیز پر قبضہ ہے۔ جب خدا سے دوستی ہوگئی۔ تو ان مخفی