خطبات محمود (جلد 7) — Page 299
۲۹۹ لوگ اپنی نادانی اور جہالت سے اس کے ایمان کے درپے ہوتے ہیں مگر بہت لوگ ہیں جو ان حملوں سے غافل ہیں۔اور نہیں سوچتے کہ متاع ایمان جب گم ہو جائے تو پھر اس کا ملنا مشکل ہوتا ہے۔دیکھو خدا تعالیٰ نے جہاں ایمان کے حصول کی دعا سکھائی وہاں اس کی حفاظت کی بھی دعا سکھائی ہے چنانچہ جہاں اهدنا الصراط المستقیم آیا ہے وہیں یہ بھی ہے غیر المغضوب عليهم ولا الضالين بہت لوگ ایمان حاصل کرتے ہیں۔مگر اس کی حفاظت نہیں کرتے اور کافر مرتے ہیں۔ان کو جہاد فی سبیل اللہ اور صدقہ اور انفاق فی سبیل اللہ کا موقع ملتا ہے۔مگر جب مرتے ہیں تو خدا کے دشمن ہو کے مرتے ہیں۔اور ایمان کو کھو کر دوزخ کے ادنی طبقہ کی طرف لے جائے جاتے ہیں۔کیونکہ چور کو چوری کی سزا دی جاتی ہے۔لیکن اگر چوری کرنے والا پولیس میں ہو تو اس کی سزا بہت زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح باغیوں کے لئے سزا ہے لیکن اگر کوئی سرکاری عہدے دار بغاوت کا جرم کرے تو اس کے لئے دوسروں کی نسبت زیادہ سزا ہے۔اسی طرح اگر مومن کہلانے والا مومنوں کے کام نہیں کرتا تو وہ ڈرے کیونکہ وہ زیادہ خدا کی گرفت کے نیچے ہے۔باوجود پانچوں وقت متعدد بار ایمان کے حصول و حفاظت کی دعا کرنے کے۔افسوس ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جو ایمان کی قدر نہیں کرتے۔اور اس کی حفاظت کی طرف توجہ نہیں کرتے۔سالہا سال کی محنت کے بعد حقیقت ایمان سمجھتے ہیں۔اور جب ایمان حاصل ہو جاتا ہے تو اس کی حفاظت نہیں کرتے۔حالانکہ بیج کی حفاظت زیادہ ضروری اس وقت ہوتی ہے جب وہ کونپل نکالتا ہے۔جب تک کونپل نہیں نکلی تھی اس کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھا۔کیونکہ اس کا وجود بھی کوئی نہیں تھا۔اسی طرح جب انسان بہت سی تحقیقات کے بعد فیصلہ کرتا ہے تو گویا اس کا ایمان ایک کونپل نکالتا ہے۔اس وقت طرح طرح کے دشمن اس کو پامال کرنا چاہتے ہیں کہیں نفس اس کا دشمن ہوتا ہے کہیں شیطان اپنی ازلی دشمنی سے ایمان کے درخت کو تباہ کرنا چاہتا ہے بعض عداوت سے اس کو مٹاتے ہیں بعض نفرت سے بعض جہالت سے اور بعض اپنے فائدہ کے لئے اور بعض محض ناوا قضی سے۔یہ وقت ہوتا ہے کہ ایمان کی حفاظت کی جائے۔مگر عام طور پر لوگ اس وقت کو نہیں سمجھتے۔در حقیقت ایمان کی حفاظت کا وقت یہی ہوتا ہے کہ انسان دلائل سے نکل کر عرفان کی۔آتا ہے۔جو شخص دلیل سے مانتا ہے وہ دلیل سے چھوڑ بھی دیتا ہے۔سینکڑوں باتیں ایسی ہیں جو پہلے دلائل سے مانی جاتی تھیں۔مگر اب دلائل سے ہی رد کی جاتی ہیں۔افلاک کے وجود کا مسئلہ ایسا تھا کہ بڑے بڑے اہل مذاہب اس مسئلہ کی وجہ سے کانپتے تھے۔اور بڑے بڑے مفسر اور علم کلام والے اس سے پیدا ہونے والے اعتراضات کے جوابات میں لگے رہتے تھے۔لیکن آج سکول کا ایک بچہ بھی اس خیال کی لغویت پر بنے گا۔اور اس کو بے وقوف کی بات کہے گا۔اسی طرح آج