خطبات محمود (جلد 7) — Page 280
۳۸۰ کا بخل کم ہو جاتا اور جو بخیل نہ ہو اسے سخاوت کی عادت پڑتی ہے اور سخی خدا کی مخلوق سے اور زیادہ ہمدردی کرتا ہے اور اس طرح سخاوت اور ہمدردی جو جزو ایمان ہے اس سے کام لینے کا انسان خوگر ہوتا ہے۔ھ انسان کے جسم میں دو چیزیں ہیں جسم اور روح۔روح ایک تو روحانی ترقی سے خوش ہوتی ہے۔دوسرے جسم کی طرح کھانے پینے سے موٹی نہیں ہوتی۔بلکہ ان چیزوں سے الگ ہونے سے خوش ہوتی ہے۔اور اپنے اصل کی طرف ترقی کرتی ہے۔برخلاف اس کے جسم کی راحت کھانے پینے میں ہے۔گویا ان دونوں میں اختلاف ہے اور ایسا اختلاف جیسے ایک مشرقی اور ایک مغربی ہو۔روح کا ظہور جسم کے ذریعہ ہوتا ہے یا جسم روح کے لئے بطور سواری اور گھوڑے کے ہے۔تھوڑا منہ زور ہے۔اس لئے اپنی بات منواتا ہے اور جدھر چاہتا ہے لے جاتا ہے۔کیونکہ اس میں قوت عملیہ ہے۔اور وہ کھانے پینے کی چیزوں سے خوش ہوتا ہے۔لیکن رمضان کے مہینہ میں کھانا پینا کم ہوتا ہے۔اور دنیاوی تعلقات میں کمی آتی ہے اس لئے روح کو جسم سے آزادی ملتی ہے اور یہ اپنی کمی کو دور کرتی اور تقویٰ کی طرف جاتی ہے۔اس کی موٹی مثال کہ روح جب جسم سے آزادی پاتی ہے تو وہ بلندی کی طرف جاکر روحانیت پاتی ہے یہ ہے کہ پاگل بعض اوقات ایسی بات کہہ دیتے ہیں کہ جو کبھی پوری ہو جاتی ہے اسی وجہ سے بعض نادان ان کو ولی سمجھ لیتے ہیں۔لیکن اصل بات یہ ہے کہ پاگل کی روح کا اس کے جسم سے تعلق کمزور ہو گیا ہوتا ہے کیونکہ دماغ میں نقص آنے سے جسم سے دماغ کا تعلق کمزور ہو جاتا ہے۔اور دماغ کی حکومت جسم پر نہیں رہتی۔اس سے اس کی روح آزاد ہو جاتی ہے اور باریک باتوں کو معلوم کر لیتی ہے۔حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ لاہور میں ایک مجذوب تھا جو لوگوں کو گالیاں دیا کرتا تھا اور بعض دفعہ ایسی باتیں بھی کہتا۔جو پوری ہو جاتیں۔آپ سے ایک شخص نے باصرار کہا کہ آپ اس سے ملنے چلیں۔آپ نے خیال کیا کہ وہ پاگل ہے۔گالی دے دے تو عجب نہیں اور اس کی اس حرکت سے یہ شخص میرے متعلق فیصلہ کر کے ٹھوکر کھائے۔چلنے سے انکار کیا۔لیکن جب اس نے اصرار کیا اور آپ نے دیکھا کہ جانا ہی بہتر ہے تو آپ گئے مگر یا تو وہ لوگوں کو گالیاں دے رہا تھا لیکن جب آپ گئے تو وہ مؤدب ہو کر بیٹھ گیا۔اور ایک خربوزہ جو اس کے پاس تھا۔حضرت صاحب کے پیش کر کے کہا کہ یہ آپ کی نذر ہے یہ الٹی تصرف تھا۔ورنہ ممکن تھا کہ وہ گالیاں دے دیتا۔تو پاگل کی بھی بوجہ جسمانی تفکرات سے آزاد ہونے کے روح کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ کبھی کوئی اعلیٰ درجہ کی بات کہہ سکتا ہے پس جسم کی صحت اور عقل کی سلامتی میں خدا سے تعلق کے لئے کھانا پینا کم کیا جائے۔تو روحانیت پیدا ہوتی ہے۔اور جسم بیلون (Balloon) کا کام دیتا ہے۔جس کے ذریعہ