خطبات محمود (جلد 7) — Page 277
۲۷۷ نہیں ڈالتا۔اگر روپیہ پاس ہو تو دوسرے کے مال پر اس کی نظر نہیں پڑتی۔جو لوگ عادی ہو جاتے ہیں ان کی حالت اور ہوتی ہے۔مگر ابتداء ان کی بھی احتیاج ہی سے ہوتی بچہ چوری تب کرتا ہے جب اس کے پاس پیسے نہ ہوں اور اگر اس کو کھانے کی چیز ملے تو خود بخود نہیں اٹھائے گا جب احتیاج ہوگی اسی وقت اٹھائے گا۔اور جب وہ متواتر اٹھائے گا تو اس کو عادت ہو جائے گی۔پس جتنے ایسے کام ہی جو عیب سمجھے جاتے ہیں۔وہ ضرورت کے وقت کئے جاتے ہیں۔اب ضرورتیں دو طرح پوری ہوتی ہیں۔اول تو اس طرح کہ ضرورت کی چیز مہیا ہو جائے دوم اس طرح کہ اس چیز کا خیال چھوڑ دیا جائے اور انسان کو اس چیز کی ضرورت نہ رہے۔مثلاً ایک شخص کوٹ کا عادی ہو۔یا اس کو جوتی کی ضرورت ہو۔اس کی ضرورت دو طرح پوری ہو سکتی ہے۔یا تو اس کو کوٹ یا جو تا مل جائے۔یا وہ ان چیزوں کا خیال ہی چھوڑ دے اور ان کے بغیر گزارہ کرے۔حضرت خلیفہ اول فرماتے تھے کہ جو انسان روزہ میں اپنی چیزیں خدا کے لئے چھوڑتا ہے جن کا استعمال کرنا اس کے لئے کوئی قانونی یا اخلاقی جرم نہیں تو اس سے اسے عادت ہوتی ہے کہ غیروں کی چیزوں کو ناجائز طریق سے استعمال نہ کرے۔اور ان کی طرف نہ دیکھے اور جب وہ خدا کے لئے جائز چیزوں کو چھوڑتا ہے تو اس کی نظر نا جائز چیز پر پڑی نہیں سکتی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حرام و حلال تو واضح ہیں۔مگر ان کے درمیان مشتبہات ہیں جو مشتبہات کو چھوڑتا ہے وہ حرام سے بچ جاتا ہے۔لیکن جو انہیں استعمال کرتا ہے۔وہ خطرہ میں ہوتا ہے کیونکہ شاہی رکھ کے قریب جانوروں کو اگر کوئی چرائے گا تو ممکن ہے نمانور رکھ کے اندر بھی چلے جائیں۔یہ دو باتیں ہو گئیں۔اب تیسری بیان کرتا ہوں۔جس قدر بدیاں پیدا ہوتی ہیں ان کا منبع چار چیزیں ہیں۔باقی آگے متفرع ہیں وہ چار یہ ہیں۔اول کھانا۔دوم پینا سوم شہوت چوتھے حرکت سے بچنے کی خواہش۔سب عیوب ان چاروں باتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ان چاروں منیعوں کو بدی سے روکنے کے لئے روزہ رکھا گیا ہے۔مثلاً ایک شخص خیانت اس لئے کرتا ہے۔کہ محنت سے بچنا چاہتا ہے۔یعنی محنت کرکے کھانا نہیں چاہتا۔اور دوسرے کا مال کھاتا ہے لیکن روزہ دار کو رات کے زیادہ حصہ میں اٹھ کر عبادت کرنی پڑتی ہے۔سحری کے لئے اٹھتا ہے۔سارا دن منہ بند رکھتا ہے۔سو تا کم ہے۔ایک ماہ تک روزے دار انسان کو تکلیف اٹھانا پڑتی ہے۔جس سے اس کا عادی ہو جاتا ہے۔اور اس سے غفلت کی عادت کو دھکا لگتا ہے پھر کھانے پینے اور شہوات سے بدیاں پیدا ہوتی ہیں۔ان کے لئے بھی روزہ رکھا گیا ہے۔انسان کھانا پینا ترک کرتا ہے۔ضروریات زندگی اور تعیش کی زندگی کو چھوڑتا ہے پس جن ضرورتوں کے باعث انسان گناہ میں پڑتا ہے۔انہیں عارضی طور پر روک دیا جاتا ہے۔اسی طرح کھانے کی وجہ