خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 276

٨٦٨ (51) روزے سے تقوی کس طرح حاصل ہوتا ہے (فرموده ۱۹ ر مئی ۱۹۲۲ء) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ اور آیت شریفہ یا ایها الذین امنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون (البقره (۱۸۴) کی تلاوت کے بعد فرمایا۔ میں نے پچھلے جمعہ یہ مضمون بیان کیا تھا کہ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ روزے کا اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ تم متقی بنو۔ اور اس کو سمجھنے کے لئے ضروری تھا کہ معلوم ہو تقوی کس کو کہتے ہیں۔ اور تقویٰ کا روزے سے جوڑ کیا ہے۔ اگر تقوی کو نہ سمجھیں تو بھی نقصان اور اگر روزے اور تقویٰ کا جوڑ نہ معلوم ہونا معلوم ہو تو بھی روزے کی طرف رغبت نہیں پیدا ہو سکتی۔ میں نے مختصر طور پر تقویٰ کے معنی بتائے تھے اور موٹے طور پر تعلق بھی بتایا تھا کہ اس ذریعہ سے خدا کے لئے مشقت اور تکلیف اٹھانے کی عادت ہو جائے گی۔ اور جب ضرورت ہوگی تو روزوں کا عادی خدا کے لئے تکلیف اٹھا لے گا۔ کیونکہ روزے کے ذریعہ انسان مشقت کا عادی ہو جاتا ہے۔ اور جس وقت خدا کی طرف سے آواز آئے فوراً لبیک کہتا ہے۔ یہ ایک عام وجہ تھی۔ اب میں چند خاص باتیں بیان کرتا ہوں جن سے روزے اور تقویٰ کا تعلق معلوم ہوتا ہے۔ ہر ایک ملک میں گنتی کی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں بھی گنتی ہوتی ہے۔ اور وہ درجن کا حساب ہے۔ میں مختصراً ایک درجن وہ تعلق جو روزے اور تقویٰ میں ہے بیان کرتا ہوں اور چونکہ یہ رمضان کا آخری عشرہ ہے اس لئے میں اس مضمون کو آج ہی ختم کرتا ہوں۔ روزہ سے تقویٰ کا عام تعلق تو میں نے یہ بتایا تھا کہ اس سے فرمانبرداری کی عادت پیدا کرنا مراد ہے۔ اور اس کے ذریعہ خدا کے لئے کام کرنے کی عادت ہوتی ہے جو وقت ضرورت انسان کے کام آتی ہے۔ اور خدا تعالی کی اطاعت اور فرمانبرداری کا ہی نام تقویٰ ہے۔ دوسرا تعلق وہ بیان کرتا ہوں۔ جو حضرت خلیفہ اول بیان کیا کرتے تھے۔ اور انہیں بہت پسند تھا۔ اور وہ یہ کہ انسان قدر تا " بدی سے نفرت کرتا ہے۔ اگر جائز طور پر کوئی چیز ملے تو انسان نا جائز طور پر اس کو لینے کی کوشش نہیں کرتا۔ مثلاً اگر کسی کو عمدہ لباس ملے تو وہ دوسرے کے لباس پر ہاتھ