خطبات محمود (جلد 7) — Page 274
۲۷۴ تو نہ رگ دیکھتے ہیں نہ بٹھا اندھا دھند مارتے چلے جاتے ہیں۔ہم وہاں کیا کر سکتے ہیں۔چونکہ سپاہی مرنا اور مارنا دونوں باتیں جانتا ہے۔وہ اگر دیکھتا ہے کہ میں دشمن کو نہیں مار سکتا تو ملک کی حفاظت کے لئے خود مر جاتا ہے۔اور بھاگنے کی نسبت مرجانا بہتر سمجھتا ہے۔مگر قصائی آرام سے چھری تیز کر کے ذبح کرنا ہی جانتا ہے۔اس لئے وہ دوسرے کے مقابلہ میں کب کھڑا ہو سکتا ہے۔پس ہمیں بھی شریعت نے مشق کرائی ہے۔جس میں یہ شرط ہے۔کہ انسان نماز پڑھتے یا روزہ رکھتے ہوئے نیت کرے کہ خدا کے حکم کے ماتحت ایسا کرتا ہوں۔اور جب یہ مشق پختہ ہو جائے تو پھر خداتعالی کے لئے خواہ کچھ کرنا پڑے آسانی سے کر سکے گا۔یہ مت کہو کہ نماز پڑھنے والا خدا کے لئے وطن کیسے چھوڑ دے گا۔چونکہ اسے خدا کے لئے کام کرنے کی عادت ہوگی۔جب خدا کے لئے اسے وطن چھوڑنا پڑے گا تو چھوڑ دے گا۔دیکھو فوج میں چاند ماری کراتے ہیں تو سامنے آدمی نہیں ہوتے بلکہ ایک تختہ ہوتا ہے۔مگر اسی پر کی ہوئی مشق دشمن کے مقابلہ میں کام آتی ہے۔نماز سے یا چاند ماری سے غرض اس قسم کا کام کرنے کی عادت یا مشق کرانا ہوتی ہے۔دیکھو جب بچہ مٹی کھاتا ہے یا کوئی ایسا کام جو اخلاق کے خلاف ہے کرتا ہے۔یا زمین پر بیٹھتا ہے اور تم روکتے ہو۔تو اس سے تمہاری یہ غرض نہیں ہوتی کہ بڑا ہو کر زمین پر نہ بیٹھے یا مٹی نہ کھائے کیونکہ یہ کام تو وہ بڑا ہو کر خود بخود چھوڑ دے گا۔ہاں اس طرح تم اس سے نافرمانی کی عادت نکالتے اور فرمانبرداری کی مشق کراتے ہو اسی طرح نماز سے غرض نماز کی مشق نہیں بلکہ خدا کے لئے کام کرنے کی مشق ہے کہ جو کام کرے خدا کے لئے کرے۔اور روزہ سے یہ غرض ہے کہ جو کام چھوڑے۔وہ خدا کے لئے چھوڑے اور اس کو آئندہ جو کام بھی کرنا پڑے یا چھوڑنا پڑے۔خدا ہی کی رضاء کے لئے کرے یا چھوڑے۔روزہ کی مشق میں خدا کے لئے کاموں سے رکنے کی مشق کرانا مد نظر ہے اور نماز میں خدا کے لئے کام کرنے کی مشق کرانا مد نظر ہے۔روزے کے ذاتی فوائد بھی ہیں وہ انشاء اللہ اگلی دفعہ بیان کریں گے۔فی الحال یہ سمجھو کہ جیسا فوجوں میں مشق کرائی جاتی ہے۔اور ان کو حکم ہوتا ہے "مارچ" تو وہ چل پڑتے ہیں۔اور جہاں روکنا ہوتا ہے وہاں کہدیا جاتا ہے ”ہالٹ" تو گھر جاتے ہیں۔اس مارچ اور ہالٹ سے اس بات کی مشق کرانا مد نظر ہوتا ہے کہ جب کام کرنے کا حکم دیا جائے کرو۔اور جب کام سے رکنے کا حکم دیا جائے رک جاؤ۔اسی طرح نماز سے کام کرنے کی مشق کرانا اور روزے سے روکنے کی مشق مد نظر ہے۔گویا کہ یہ بھی مارچ اور ہالٹ کی طرح دو حکم ہیں۔یہ دونوں احکام علیحدہ علیحدہ ہیں۔اور ان دونوں کے فوائد ہیں ان سے مشق کرائی جاتی ہے۔اور شرط یہ ہے کہ انسان جانتا ہو۔کہ میں خدا کے حکم کے ماتحت کام کر رہا ہوں۔لیکن اگر نماز اس نیت سے نہ پڑھی جائے گی۔کہ میں خدا کے