خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 22

۲۲ اس میں کیا شک ہے کہ ہر ایک شخص ہر ایک کام کا اہل نہیں ہوتا مثلا سوال پیدا ہو کہ ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر کس کو بنایا جائے کوئی کہہ دے کہ خود خلیفتہ المسیح ہی ہیڈ ماسٹری کا کام کریں اور کام او کوئی میرے خلاف رائے ظاہر کرے تو میرے لئے اس میں کوئی غصہ کی بات نہیں۔ کیونکہ سکول میں حساب اور انگریزی بھی پڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور مجھ کو یہ چیزیں نہیں آتیں۔ یا کسی منارہ کی تعمیر کا سوال ہو۔ کوئی کہے کہ خلیفتہ المسیح ہی اپنے اہتمام میں بنوالیں۔ اور کوئی کہے کہ یہ تو انجینئر نہیں ہیں۔ تو یہ اس کا اعتراض غلط نہ ہوگا۔ یا اگر ہم گزارے کے قابل کوئی عمارت بنوا بھی سکتے ہوں۔ مگر چونکہ ہماری یہ قابلیت مشکوک ہوگی۔ اس لئے معترض کا اعتراض غلط نہیں۔ اور ہمارے لئے غصہ کا مقام نہیں۔ ہاں خدا کسی کو کسی کام کے قابل بنائے۔ تو اس پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اگر کوئی کہے کہ میں خلافت کے قابل نہیں۔ تو میں کہوں گا تو جھوٹ کہتا ہے۔ خدا نے مجھے خلافت کے قابل بنایا اور خلیفہ مقرر کیا ہاں اگر ہیڈ ماسٹری کا سوال ہو۔ تو میں خود کہوں گا کہ میں قابل نہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ لا تخونوا الله والرسول وتخونوا اماناتكم وانتم اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو۔ نہ آپس میں خیانت کرو اور تم جانتے ہو۔ کیونکہ مشوروں وغیرہ میں خیانت کے نقصان بہت صاف اور کھلے ہوتے ہیں۔ جو شخص خیانت کرتا ہے وہ خدا کے غضب کا مستحق ہوتا ہے۔ خفیہ مجالس میں شامل نہ ہو۔ کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے مشورے نہ کرو۔ مگر دوسرے امور کے مشوروں کو چھپاؤ۔ کیونکہ جب مشورہ ہوگا تو کسی کے رائے خلاف ہوگی اور جس کے خلاف ہوگی۔ اس کو برا معلوم ہوگا۔ جب اس کو علم ہوگا تو وہ تعلمون سرے کو اپنا خواہ مخواہ دشمن سمجھ لے گا۔ اس لئے مشوروں کا ظاہر کرنا جرم ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ کس طرح اس سے فتنہ پڑتے ہیں۔ حضرت خلیفہ اول کے وقت میں ایک مدرس کی ترقی کا سوال تھا۔ میرے خیال میں وہ شخص مستحق تھا۔ میں نے رائے دی کہ اس کو ترقی ملنی چاہئیے۔ ایک دوسرے شخص نے کہ وہ بھی ممبر تھا اس کے خلاف رائے دی۔ اجلاس ختم ہونے کے بعد اس شخص نے جس نے مجلس میں رائے خلاف دی تھی اس کو کہا کہ تمہیں ترقی تویل جاتی میاں صاحب نے مخالفت کی۔ میں نے جو اس کے حق میں رائے دی تھی اس کی خاطر نہ تھی بلکہ انصاف کی خاطر تھی مگر دوسرے شخص نے مجلس میں خلاف رائے دیکر باہر جا کر اس کو خیر خواہی جتائی ایک مدت کے بعد باتوں باتوں میں یہ راز کھلا۔ اور اس نے کہا کہ آپ نے میرے خلاف رائے دی تھی۔ تو میں نے اس کو بتایا ۔ کہ میں نے تو خلاف رائے نہیں دی۔ تو اس طرح شریر شرارت کر گذرتے ہیں۔ اس لئے مشوروں کے متعلق حکم ہے۔ کہ ظاہر نہ کئے جائیں۔ میں نے بتایا ہے کہ دنیاوی معاملات میں بھی راز داری سے کام لیا جاتا ہے۔ ہمارا معاملہ تو آخرت تک چلتا ہے۔