خطبات محمود (جلد 7) — Page 267
جیسی ان کی تھی۔ہم میں شاذ و نادر ایسے ہیں جنہوں نے ورثہ میں یہ بات نہیں پائی کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پیروی کریں گے۔جب ہم نے ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا اس وقت سے ہمارے کانوں میں یہ پڑ رہا ہے کہ ہمیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی پیروی کرتا ہے۔لیکن کیا ہم میں سے بہت سوں کی حالت یہی ہے۔ہم پہلے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ ہر تکلیف اور ہر ایک ذلت وہ اس راہ میں خوشی سے برداشت کرتے تھے۔اگر آج کسی شخص کو اطلاع ملے کہ اس کو سرکار دس مربع زمین دے گی تو وہ اس خوشی اور پھرتی سے نہیں اٹھے گا۔جس خوشی اور پھرتی سے وہ لوگ اس خبر پر اٹھتے تھے۔کہ ہمیں خدا کی راہ میں جان دینے کے لئے بلایا جاتا ہے۔کیا ہماری بھی یہی حالت ہے؟ احد کی جنگ میں ایک صحابی یہ اطمینان کر کے کہ فتح ہو چکی ہے آرام سے سمھجوریں کھا رہے تھے۔ان کو خبر ملی کی فتح شکست سے بدل گئی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے۔ان صحابی نے یہ سن کر کھجوریں پھینک دیں اور کہا کہ دیکھو میرے اور جنت کے درمیان یہی کھجوریں ہیں۔یہ کہہ کر میدان میں پہنچے اور شہید ہو گئے۔۳۔ان کے ان اعمال سے پتہ لگتا تھا کہ انہوں نے دیکھ لیا تھا۔اور عقلوں سے سمجھ لیا تھا کہ ان احکام میں بہت فائدہ ہے۔اگر ہم نماز پڑھتے ہیں تو اس کے بدلہ میں خدا ہمیں دوست کر کے پکارتا ہے۔خالق زمین و آسمان ہمیں دوست اور محبوب کہتا ہے اس کے مقابلہ میں جو قربانیاں ہیں وہ بالکل اونی ہیں ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے آگ ہو اور جب اس میں کود پڑیں تو اندر باغ ہو۔پس دنیا کی جو تکلیفات ان احکام پر عمل کرنے سے ہوتی ہیں وہ ترقیات کا موجب ہوتی ہیں۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے۔یا ایها الذین امنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون میں نے پہلے تمہیں اس آیت کے یہ معنی بتائے تھے کہ اے لوگو ہم تم پر روزے فرض کرتے ہیں۔اور اس میں تم پر کوئی ظلم نہیں کیونکہ تم سے پہلوں پر بھی فرض کئے گئے تھے۔مگر آج میں تمہیں یہ معنی بتاتا ہوں۔کہ اے مومنو تم پر آج ہم روزے فرض کر کے ایک فضل کرتے ہیں۔جو کہ پہلوں پر فرض کر کے ان پر فضل کیا گیا تھا۔اور ہم اس فضل سے تم کو محروم رکھنا نہیں چاہتے جو یہ ہے کہ تم متقی ہو جاؤ چونکہ روزے تقویٰ کا ذریعہ ہیں۔اس لئے فضل ہیں۔روزے کس رنگ میں تقویٰ کا موجب ہیں۔یہ ایک لمبا مضمون ہے۔اب وقت نہیں اگلی دفعہ انشاء اللہ بیان کروں گا۔اب اتنی توجہ دلاتا ہوں کہ احکام الہی فضل ہیں۔اگر یہ نہ ہو تو احکام لانے والوں سے محبت نہ کی جاتی۔ان لوگوں سے محبت کیا جانا بتاتا ہے کہ محبت کرنے والے اس میں فائدہ سمجھتے ہیں نادان ہے جو پہلوں کے تجربہ سے فائدہ نہ اٹھائے ان باتوں کو