خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 256

۲۵۶ اس موقع کی تلاش میں رہنے میں کہ کب وقت آئے جب میری رائے درست ہو۔تباہی ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو چاہیے کہ مشورہ کے وقت صحیح رائے دیں۔اور جب خلیفہ یا اس کے مقرر کردہ اشخاص فیصلہ کر دیں۔جو خواہ ان کی رائے کے خلاف ہی ہو۔تو ایسی سعی کریں۔کہ ان کی طرف سے کام میں کوئی کسر نہ رہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے۔کہ چونکہ یہ فیصلہ ان کی رائے کے خلاف کیا گیا تھا۔اس لئے انہوں نے خراب کر دیا۔اس وقت مجھے نام لینے کی ضرورت نہیں۔مگر کئی ہیں جو یا تو کام کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا اس تن دہی سے کام نہیں کرتے جس سے انہیں کرنا چاہئیے۔ایسا نہیں ہونا چاہیے۔اس کے بعد میں کارکنوں کو مشورہ دیتا ہوں۔کہ مجلس کرکے قادیان کے لوگوں کی جو ذمہ داریاں مجلس شوریٰ نے قرار دی ہیں ان کو پورا کریں۔مثلاً یہ کہ ہر جماعت نے جتنا چندہ سارے سال میں دیا تھا۔اتنا اس دو ماہ کے عرصہ میں دیں۔اس تجویز کے ماتحت ضلع گورداسپور کے ذمہ بارہ ہزار روپیہ آیا ہے۔علاوہ ماہوار چندہ کے۔اس کے لئے قادیان میں بھی جلسہ ہو۔اس میں سے دسواں حصہ میں نے اپنے ذمہ لیا تھا۔اور ایک ہزار کا وعدہ ایک اور دوست نے کر لیا ہے۔اب ۹۸۰۰ روپیہ باقی رہ گیا ہے۔جو ضلع گورداسپور کے احمدیوں نے جمع کرنا ہے قادیان کے لوگوں کو نمونہ بننا چاہئیے۔تاکہ بیرونی جماعتوں پر زور پڑے۔اور اس بوجھ کو جو سلسلہ پر پڑا ہوا ہے دور کر سکیں۔اس کا اثر یہاں تک پہنچا ہے کہ محکمہ ہائے نظارت اور انجمن تو الگ رہے۔دوکانوں پر مال نہیں ملتا۔پس قادیان والوں کو نمونہ بنا چاہیئے۔اس میں شک نہیں کہ قادیان میں اکثر وہی لوگ ہیں۔جو اس بوجھ کا شکار ہو رہے ہیں۔اور اب ان سے کچھ لینا ان پر اور بوجھ لا دتا ہے۔مگر یہی بوجھ ان کی آسانی کا باعث ہو گا جب یہ لوگ باوجود اس حالت کے اس بوجھ کو اٹھائیں گے تو اور جماعتیں بھی اٹھائیں گی۔جس سے ان کا بوجھ دور ہو جائے گا۔اس لئے قادیان والوں کو اور باہر والوں کو بھی چاہئیے کہ جو تجاویز دی گئی ہیں۔انہیں قبول کریں۔اسی طرح خطبہ کے ذریعہ (کیونکہ خطبہ چھپ جائے گا) بیرونی جماعتوں کے لئے اعلان کرتا ہوں۔کہ مالی ضروریات کے متعلق مجلس شوری میں جو فیصلہ ہوا ہے اسے پورا زور لگا کر پورا کریں۔ہم نے یہ بوجھ اپنی خوشی سے آپ اٹھایا ہے۔اور امید ہے کہ اللہ تعالٰی اس کے بدلے بہت بڑے بڑے انعام دے گا لیکن ایک حد تک اسے اٹھا کر رکھ دیتا دین و دنیا دونوں میں ذلت کا باعث ہے۔اس لئے جماعتوں کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئیے کہ اب ان کا اس بوجھ کے نیچے سے گردن نکالنا ممکن نہیں۔اس راستے میں مرنا ذلت نہیں۔کیونکہ اصل انعام مرنے پر ہی ملے گا مگر بوجھ سے سر نکالنا ہلاکت ہے۔جو شخص خدا کے دین میں داخل نہیں ہوتا وہ بھی سزا کا مستحق ہے۔مگر مرتد کے لئے بہت زیادہ سزا کی گئی ہے۔ہم حضرت مسیح