خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 20

علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ نبی کے لئے مشورہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ تو رحم کے طور پر ہوتا ہے چنانچہ یہ بھی جماعت پر رحم ہی ہے کہ ان میں قابل اور مستعد لوگ پیدا ہوں۔اور یہ غرض مشورہ کی ہوتی ہے۔ماں باپ بوڑھے ہوتے ہیں۔تجربہ کار ہوتے ہیں مگر اپنے کام اپنی اولاد کے سپرد کرتے ہیں تاکہ ان کی نگرانی میں ان میں کام کی اہلیت آجائے۔اور اگر ماں باپ اپنی نگرانی میں ان سے کام نہ کرائیں تو ان کے بعد اولاد نالائق ثابت ہو اور کوئی کام نہ کر سکے۔اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے مشورہ لئے جاتے ہیں۔اور وہ کئی طرح لئے جاتے ہیں۔کبھی مجلس میں ایک بات کی جاتی ہے اور اس سے غرض مشورہ ہوتا ہے۔اور کبھی الگ بلا کر چند آدمیوں کو ان سے مشورہ لیا جاتا ہے۔کبھی زیادہ آدمیوں کو جمع کرکے مشورہ لیا جاتا ہے۔پہلی غرض یہی ہوتی ہے کہ جن سے مشورہ لیا جاتا ہے ان میں استعداد پیدا ہو اور یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ مشورے کس طرح دئے جاتے ہیں اور ان کی کیا شرطیں ہوتی ہیں۔اور کس طرح پیش آمدہ مشکلات کو حل کیا جاتا ہے۔مشورہ کی شرائط میں سے ایک اہم شرط جس کو نظر انداز کرنے سے تباہی آجاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر مشورہ امانت ہوتا ہے۔جس سے مشورہ کیا جائے۔وہ امانت کی طرح رکھے کیونکہ اس کے اظہار سے بہت دفعہ فتنہ پیدا ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ امانت سے کام کرے۔یہاں یہ مطلب نہیں کہ خفیہ سوسائٹی بنائے۔اور کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے جو کسی سے مشورہ لیا جائے اس کو بھی چھپائے مثلاً کوئی شخص کسی کو کہے کہ میں فلاں کو زہر دوں اور یہ چھپائے۔یہ غلط ہے۔اگر یہ اس مشورہ کو چھپائے گا تو یہ جرم کرے گا۔بلکہ اس کا فرض ہے کہ اس کو ظاہر کرے۔اور اس کا اعلان کرے۔پس اسلام میں خفیہ انجمنیں جائز ہی نہیں۔بلکہ مشورہ کو امانت رکھنے کے یہ معنی ہیں کہ مشورہ لینے والے کا اس میں اپنا کام ہو کسی دوسرے کو نقصان پہنچانا مد نظر نہ ہو۔ایسا مشورہ ظاہر کرنا غلطی ہے۔مثلاً کوئی شخص کسی کے پاس آئے اور کہے کہ میں نے فلاں جگہ اپنا روپیہ رکھا ہے کیا وہ جگہ محفوظ ہے اور یہ شخص بجائے اس بات کو امانت رکھنے کے اس کا اعلان کر دے۔تو چور جائیں گے اور روپیہ نکال کر لے جائیں گے۔پس ضروری ہے کہ جس مشورہ میں کسی کو نقصان پہنچانا مد نظر نہ ہو۔ایسے مشورہ کو چھپایا اور مخفی رکھا جائے۔اگر کسی مشورہ میں کسی کو نقصان پہنچانے کا خیال نہیں یا کسی کام کا سوال ہے کہ فلاں اس کام کا اہل ہے یا نہیں۔اس کو بھی پوشیدہ رکھے۔کیونکہ اس میں بھی اس کو نقصان پہنچانے کا سوال ہے۔بلکہ کام کے قابل یا نا قابل ہونے کا سوال ہے۔کیونکہ اگر ایک شخص ایسے مشورہ میں جو کسی اہم کام کے متعلق ہو۔اس شخص کے خلاف رائے دے جس کو وہ کام سپرد کرنے کی رائے کسی