خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 253

۳۵۳ اور اتنے مختلف مذاق کے لوگ ملکر لگتے ہیں۔اس لئے کام ہوتے ہیں۔جس طرح یہ کام اگر لوگ نہ کریں تو نہیں ہوتے۔اسی طرح صحیح رائے بھی اس وقت تک معلوم نہیں ہو سکتی جب تک مختلف مذاق کے لوگ مشورہ نہ دیں۔کیونکہ ایک بات ایسی ہوتی ہے جو ظاہر میں بری نہیں ہوتی لیکن اندر سے بری ہوتی ہے۔اور اس کا پتہ طبائع کے اختلاف سے لگ سکتا ہے بعض کو وہ بری لگے گی اور بعض کو بری نہیں لگے گی۔مثلاً قتل، ڈاکہ، چوری، زنا تو تمام طبائع برائیاں سمجھتی ہیں مگر کئی ایسی بدیاں ہیں کہ بعض ان کو بدی نہیں سمجھتے اور بعض سمجھتے ہیں۔اسی طرح بعض نیکیاں ایسی ہوتی ہیں۔جو بعض کو معلوم ہوتی ہیں اور بعض کو نہیں معلوم۔لیکن جب مختلف طبائع ملکر غور کرتی ہیں۔تو پھر ایک درمیانی رستہ نکالنے کے لئے آسانی پیدا ہو جاتی ہے۔اور پتہ لگ جاتا ہے کہ اس پر چلایا جائے تو قریباً قریباً سب چل سکتے ہیں۔تو مشورہ کا فائدہ ہوتا ہے۔اسی لئے نبی جو آتے ہیں وہ مشورہ لیتے رہے۔لیکن تعجب آتا ہے۔کہ جتنا انسان عقل میں کمزور ہوتا ہے اتنا ہی اپنے آپ کو مشورہ سے آزاد سمجھتا ہے۔گویا اس بارے میں لوگوں کا الٹ رویہ ہے۔دنیا میں قاعدہ ہے کہ جتنا کوئی زیادہ بیمار ہو اتنا ہی ڈاکٹر کی طرف زیادہ متوجہ ہوتا ہے۔اور جتنا اچھا ہوتا جاتا ہے اتنا ہی ڈاکٹر سے آزاد ہوتا جاتا ہے۔لیکن مشورہ کے متعلق یہ ہے کہ جتنے عقل میں کامل ہوتے ہیں۔مشورہ پر زور دیتے ہیں۔اور جتنے عقل میں کمزور ہوتے ہیں مشورہ میں آزاد ہوتے ہیں۔حتمی کی طبائع بڑھتی بڑھتی یہاں تک ترقی کر جاتی ہیں۔جیسا کہ پچھلے خطبہ میں میں نے بتایا تھا۔خدا تعالیٰ سے بھی اپنے آپ کو بے نیاز سمجھ لیتی ہیں۔خدا تعالیٰ کے متعلق مشورہ کا لفظ تو نہیں بولا جا سکتا۔کیونکہ خدا تعالی کی طرف سے ہدایت آتی ہے۔مگر یہ بھی مشورہ ہی دیتی ہے کیونکہ راہ نمائی کرتی ہے۔تو یہاں تک لوگ کو تاہ عقلی میں ترقی کر جاتے ہیں اور کہدیتے ہیں کہ ہمیں خدا کی بھی ضرورت نہیں ہے۔مگر یہ انکی نادانی ہوتی ہے۔مومن کا کام یہ ہے کہ مشورہ لے اور دوسروں کی رائے کا احترام کرے۔دنیا میں جس قدر جھگڑے اور لڑائیاں ہوتی ہیں اسی لئے ہوتی ہیں کہ لوگ اپنی اپنی رائے پر زور دیتے ہیں۔اگر ان کی صحیح رائے ہو تو بھی وہ جہالت پر ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ ایسے رستہ پر چل رہے ہوتے ہیں کہ ایک دفعہ اگر ان کی رائے صحیح ہو تو دس دفعہ وہ ٹھو کر بھی کھائیں گے۔کیونکہ انہیں یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ انہیں کسی کے مشورہ کی ضرورت نہیں۔لیکن مومن کا یہ کام نہیں۔جتنے فساد اور لڑائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ان کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ لوگ اپنے اوپر اشکال کر لیتے ہیں کہ ہماری رائے صحیح ہے۔اور جب ان کی رائے اور ارادہ کے خلاف کوئی بات کی جائے۔تو اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اس طرح ان کی خود سری ظاہر ہوتی ہے۔مشورہ کے اور فوائد کے علاوہ ایک یہ بھی فائدہ ہے کہ یہ اطاعت کی عادت ڈالتا ہے کیونکہ اگر ایک شخص مشورہ کر کے اپنے ماتحتوں کی