خطبات محمود (جلد 7) — Page 174
پانچ سات دس آدمی مجھے لکھ دیں گے کہ ان پر کوئی اعتراض نہ کیا جاوے گا۔میں انہیں انجمن کے ممبر بنا دوں گا۔مدرسہ احمدیہ کا منیجر یا اور صیغوں کا آج ہی انچارج کر دوں گا۔موجودہ کام کرنے والوں کے جس قدر بھی عہدے ہیں۔سب ان کو دے دوں گا۔اور پہلے کارکنوں کو خدا مجھے جو کچھ دے گا اپنے پاس سے دوں گا۔اگر کوئی اس بات کے لئے اپنے آپ کو خود نہ پیش کرتا ہو اور کسر نفسی کرے۔تو دوسرے پیش کر دیں۔کہ فلاں فلاں ایسا ہے۔جس پر کوئی اعتراض نہ کرے گا۔میں انہیں کو مقرر کر دوں گا۔مجھے تو کام سے غرض ہے۔لیکن یہ خوب اچھی طرح یاد رکھو۔کہ جو لوگ کام اچھی طرح کرنے کا زیادہ دعوی کرتے ہی۔ان پر زیادہ اعتراض ہوتے ہیں۔بات یہی ہے کہ رائے اور قیاس میں غلطیاں ہوتی ہیں۔اور ممکن ہے۔کہ کسی کام کے متعلق کسی کی جو رائے ہو۔وہ غلط ہو۔مگر کام چلانے کے لئے اس کا مانا ضروری ہوتا ہے۔پس ان باتوں کو مد نظر رکھو جو میں نے رائے قائم کرنے کے متعلق بتائی ہیں۔اور جو کام کرنے والوں کے متعلق بتائی ہیں۔کہ ہو سکتا ہے کام کرنے کی لیاقت کی وجہ سے ایک زیادہ کا مستحق ہے۔لیکن مولفتہ القلوب کی وجہ سے دوسرے کو زیادہ دیا جاتا ہے۔یا اس کی عادت کا لحاظ رکھا جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود کے وقت کہا گیا کہ یہاں جو لوگ آتے ہیں۔ان سب کو ایک جیسا کھانا دینا چاہیے۔فقراء کے دربار میں یہ نہیں ہونا چاہئیے۔کہ امیر کو اچھا اور غریب کو معمولی کھانا دیا جائے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا میں کیا کروں۔خدا نے ہی یہ فرق رکھا ہے کہ کسی کو امیر بنایا ہے اور کسی کو غریب۔تو جن کی عادت ہو۔اس کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔پس سبقت کی وجہ سے یا عادت کی وجہ سے یا لیاقت کی وجہ سے جو اگرچہ کم ہوتی ہے۔لیکن اور میں اتنی بھی نہیں ہوتی۔اس لئے اسے رکھنا پڑتا۔اور سلوک کرنا پڑتا ہے۔ان باتوں کو زیر نظر رکھ کر رائے قائم کرنی چاہئیے محض لیاقت کوئی چیز نہیں سبقت اور تالیف قلب بھی ضروری ہے۔پھر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ایک کی رائے میں ایک لائق ہوتا ہے۔اور دوسرے کی رائے میں وہ ایسا نہیں ہو تا۔اس لئے کس کی رائے کی پابندی کی جاوے۔بات یہی ہے کہ لوگوں کی رائے کی پابندی نہ ہو سکتی ہے اور نہ کی جا سکتی ہے۔خدا تعالیٰ نے ایسے معاملات کے متعلق جو قوانین بتائے ہیں اور جن کا میں ذکر کر آیا ہوں۔انہی کی پابندی کی جائے گی۔اور چونکہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں۔اس لئے قیامت تک تفرقہ نہیں ہوگا۔کیونکہ جو لوگ خدا کے مقرر کردہ قوانین کی پابندی کرتے ہیں۔وہ مضبوطی کی طرف جاتے ہیں۔کمزوری کی طرف نہیں جاتے۔اگر ان باتوں کو تم مد نظر رکھو گے۔تو جو بھی دشمن تم سے ٹکرائے گا۔پاش پاش ہو جائے گا۔اور تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔اور اگر ان کو یہ نظر نہ رکھو گے۔تو کسی دشمن اور کسی فوج کی ضرورت نہیں تم خود بخود کھائے جاؤ گے اور ملیا میٹ ہو جاؤ گے۔