خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 169

199 کہ ان کے ساتھ رعایت کی جائے۔تو تقسیم عمل، تقسیم مال اور تقسیم مدارج میں یہ بھی مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔کہ سابق کون ہے۔اور جب تک دین کے کسی معالمہ میں فرق نہ آئے۔یعنی یہ نہیں کہ سابق اگر دین کے متعلق کوئی غلط بات کہے تو مان لیں۔قرآن و حدیث کے خلاف کوئی بات نہ ہو۔اور شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔تو ایسی حالت میں رسول کریم نے سابقون کو مقدم رکھا اور انکا حق ہے۔اور رسول کریم سے بڑھ کر شریعت کا سمجھنے والا اور عمل کرنے والا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔دوسری ایک اور مثال بتاتا ہوں۔جس میں سابق کو مقدم رکھا گیا ہے۔گو اس میں اختفا کا رنگ ہے۔لیکن میرے نزدیک ظاہر ہے۔ایک دفعہ رسول کریم بیٹھے تھے۔حضرت ابو بکڑ بھی آپ کے بائیں طرف بیٹھے تھے اور ایک لڑکا دائیں طرف بیٹھا تھا تو رسول کریم کے پاس دودھ لایا گیا۔آپ نے دودھ پیا اور پھر لڑکے سے مخاطب ہو کر فرمایا اگر تم کہو تو یہ دودھ ابو بکر کو دے دوں۔دائیں طرف ہونے کی وجہ سے اس کا حق تھا۔اس لئے آپ نے اس سے پوچھا۔ادھر لڑکے کو خیال تھا۔کہ رسول کریم کا تبرک ہے۔میں کیوں چھوڑوں اس لئے اس نے کہا مجھے دیجئے۔میں اپنا حق نہیں چھوڑتا ہیں۔یہ بھی محبت کا ایک رنگ تھا۔ادھر رسول کریم کا خیال تھا کہ حضرت ابو بکر کو مل سکے۔یہ تو رسول کریم کے زمانہ کی مثالیں ہیں۔اس کے بعد حضرت عمر کے وقت ابو عبیدہ کے ماتحت خالد بن ولید کو کیا گیا۔خالد بن ولید فنون جنگ میں ایسے مشاق اور ماہر تھے کہ یورپ آج تک ان کی قابلیت کا اعتراف کر رہا ہے۔اور بعض نے تو حد ہی کر دی ہے۔کہتے ہیں عمر کو ساری شہرت خالد ہی کی وجہ سے حاصل ہوئی تھی۔تو خالد فنون جنگ کا ماہر ہونے کے لحاظ سے بے نظیر انسان تھا۔آنا" فانا اس نے اسلام کے جھنڈے کو دور دراز ممالک میں جا گاڑا۔اور تھوڑے تھوڑے لشکر کے ساتھ دشمن کے بڑے بڑے لشکر کو اس طرح پراگندہ کر دیتا تھا کہ دنیا حیران رہ جاتی تھی۔اور اب تک حیران ہے۔حضرت عمر نے اس کو ہٹا کر ابو عبیدہ کے ماتحت کر دیا۔اگرچہ حضرت عمر نے اس کی وجہ نہیں بتائی اور یہاں تک کہا ہے۔کہ ایک وجہ تو ایسی ہے۔کہ اگر میرے کرتے کو بھی معلوم ہو جائے۔تو میں اسے جلا دوں۔مگر ایک وجہ بتائی ہے۔اور وہ یہی ہے۔کہ ابو عبیدہ سابق تھے۔ابو عبیدہ ایسے ماہر جنگ نہ تھے۔جیسے خالد بن ولیڈ تھے۔اور خالد بن ولیڈ سے ہی مشورہ لیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ انہوں نے خالد کو بلا کر مشورہ پوچھا۔کہ بتائیے کس طرح کرنا چاہیئے۔آگے دیکھئے ادب بھی کتنا کیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا آپ کو خدا تعالیٰ کے رسول کے خلیفہ نے اس کام کے لئے مقرر کیا ہے۔میں کس طرح آپ کو مشورہ دوں۔انہوں نے کہا ہاں یہ ٹھیک ہے میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ