خطبات محمود (جلد 7)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 162 of 454

خطبات محمود (جلد 7) — Page 162

نہیں۔ ۱۶۲ انسان تو انسان سارے لوگ خدائی تقسیم پر بھی خوش نہیں ہوتے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ایک شخص کے متعلق فرماتے تھے۔ جسے پھر تو خدا تعالیٰ نے ہدایت دے دی اس نے حضرت مسیح موعود کی بیعت کرلی۔ آپ سے تعلقات بھی ہو گئے۔ اور اس کا انجام بھی اچھا ہو گیا۔ اس کے متعلق آپ فرماتے۔ کہ ابتدا میں اس سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ لیکن ایک ایسا واقعہ پیش آیا۔ کہ آپ اس سے الگ ہو گئے۔ اور وہ واقعہ یہ تھا کہ اس کا ایک لڑکا فوت ہو گیا میں بھی اس کے ہاں گیا۔ اور بڑے بھائی صاحب بھی اور لوگ بھی تھے۔ وہ بڑے بھائی صاحب کو دیکھ کر ان سے لپٹ گیا اور چیخ مار کر کہنے لگا۔ مرزا صاحب خدا نے مجھ پر بڑا ظلم کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود فرماتے۔ ہمارا اس سے بڑا تعلق تھا۔ لیکن یہ بات سنکر ایسی نفرت ہو گئی کہ اس جنازہ میں شامل ہونا بھی دو پھر ہو گیا۔ اور اس سے علیحدگی اختیار کرلی۔ تو بندہ تو بندہ سارے لوگ خدا پر بھی راضی نہیں ہوتے۔ پھر وہ کون انسان ہے جو کسی قسم کی تقسیم کرے اور سارے کے سارے لوگ اس سے خوش ہوں۔ پھر وہ انسان جس کے متعلق حضرت صاحب نے فرمایا ہے۔ کہ بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کا فرم کہ اے مخالفو ! تم مجھے کافر کہتے ہو۔ چونکہ کفر کا فتوئی عقیدہ پر ہی لگایا جاتا ہے اس لئے میرا عقیدہ سن لو کہ اگر میں خدا کے بعد کسی سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں تو وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اگر یہ کفر ہے۔ تو خدا کی قسم میں بڑا کافر ہوں۔ کیونکہ یہ کفر مجھ میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔ کہ میں سب سے زیادہ محبت خدا سے اور خدا کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے رکھتا ہوں۔ اور یہ کفر میری رگ رگ اور ریشہ ریشہ میں بھرا ہوا ہے۔ تو وہ انسان جس کی طرف تمام انصاف منسوب کیا جا سکتا ہے۔ اور جو عدل کا منبع اور خزانہ ہے وہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ مگر آپ کے وقت کے واقعات دیکھنے سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ کہ ایک دفعہ جبکہ آپ مال تقسیم کر رہے تھے۔ تو ایک شخص نے کہا تھا کہ عدل و انصاف کو مد نظر رکھئے۔ جس پر آپ نے فرمایا۔ ”کیا میں عدل و انصاف مد نظر نہیں رکھتا۔ اگر میں نہیں رکھتا۔ تو اور کون مد نظر رکھے گا؟ ا تو عدل و انصاف کی تعلیم دینے والے آپ کے لئے بھی کھڑے ہو گئے تھے۔ جن کے نزدیک آپ عدل مد نظر نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ کہنے والے نے کہا۔ انصاف مد نظر رکھیں اور خوف خدا کریں۔ گویا آپ خوف خدا کو دور کرکے اور جان بوجھ کر ایسا کر رہے تھے۔ غلطی سے بے انصافی نہ کر رہے تھے۔ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بھی اعتراض کرنے والوں نے اعتراض کر ہی