خطبات محمود (جلد 7) — Page 136
ایک صحابی کے متعلق آتا ہے۔اس نے رسول کریم سے کچھ مانگا۔آپ نے دیا۔اس نے پھر مانگا۔آپ نے دیا۔پھر مانگا۔آپ نے دیا۔اور اس پر وہ مطمئن ہو گیا۔اس وقت آپ نے فرمایا مال تو تم نے لے لیا ہے۔اب میں تمہیں ایک نصیحت کرتا ہوں۔جو اس مال سے بھی قیمتی ہے۔اور وہ یہ کہ سوال کرنا بہت برا ہے۔یہ نصیحت اس نے سن لی اور چلا گیا۔دیکھو ان لوگوں کے ایمان کیسے مضبوط تھے۔ایک موقع پر عین اس وقت جبکہ لڑائی کی حالت تھی۔اسی صحابی کے ہاتھ سے کوڑا گر گیا۔اور وہ گھوڑے پر سوار تھا۔ایک دوسرا شخص اس کوڑا پکڑانے لگا۔تو اس نے کہا خدا کی قسم مجھے نہ دینا میں خود نیچے اتر کر اٹھاؤں گا۔میرا گھوڑے پر خاموش بیٹھے رہنا بھی سوال کرنے کی ایک صورت ہے۔اور میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ کبھی سوال نہ کروں گا۔چنانچہ اس نے خود اتر کر اٹھایا۔تو قناعت سوال کرنے سے ٹوٹتی ہے۔اس سے پر ہیز کرنا چاہئیے۔میں اس کے متعلق اور باتیں بھی بیان کرنا چاہتا تھا۔لیکن چونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے آج اسی پر ختم کرتا ہوں۔اه بخاری کتاب المغازی باب غزوة حنين۔۔۔الفضل ۲۴ نومبر ۱۹۲۱ء)